رسائی کے لنکس

روس کے پارلیمانی انتخابات آزادانہ نہیں ہوں گے، حزب اختلاف کا انتباہ


تصویر میں ایک الیکشن پوسٹر کے سامنے لوگ جسمانی مشقیں کر رہے ہیں (فوٹو رائٹرز)

روس کے پارلیمانی انتخابات میں اب دو ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، جبکہ حزب مخالف اور آزاد مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ صدر ولادی میر پوٹن کے 21 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد یہ سب سے کم درجے کےآزادانہ طور پر منعقد ہونے والے انتخابات ہوں گے۔

عوامی رائے کے جائزے بتاتےہیں کہ روس کے 26 فیصد عوام ان انتخبات میں یونائٹد رشیا پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ یوں ستمبر 19 کو ہونے والے ان انتخابات میں اس پارٹی کے حق میں یہ شرح 2008کے بعد کی کم ترین حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔

تاہم،پوٹن کے تقریباً تمام حریف کہتے ہیں کہ پولز کے برعکس اس الیکشن کے نتائج یونائٹڈ پارٹی کے ہی حق میں ہوں گے۔

وہ اس الیکشن کے نتیجے پر شبہ کئی وجوہات کی بنا پر کرتے ہیں جن میں ووٹنگ فراڈ، صدر پوٹن کے نقادوں کی آواز کو کچلنا، آزاد امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا، ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا اور ووٹروں کا خریدنا شامل ہیں۔

اس ضمن میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر فیودور کراشنیکوو کہتے ہیں، "ووٹروں کو خریدنے کی خاطر رشوت ستانی، ہتھکنڈوں کا استعمال، انتظامی ذرایع کا استعمال، حکومت کے ناقدین پر جبر جیسے حربے پوٹن اور ان کی پارٹی استعمال کر رہی ہے۔"

روس کے حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی اس سال فروری میں عدالت میں سماعت کے دوران
روس کے حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی اس سال فروری میں عدالت میں سماعت کے دوران

کراشنی کوو حزب اختلاف کے ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں روس چھوڑدیا اور یورپ چلے گئے اور جن کے مطابق انہیں اختلاف رائے رکھنے کی پاداش میں حکومتی کریک ڈاون کے ذریعہ ملک بدر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اب تک حکومتی ہتھکنڈوں کی وجہ سے درجنوں میڈیا پلیٹ فارمز اور سول سوسائٹی کے گروپوں نے اپنا کام بند کردیا ہے، کیونکہ انہیں الیکشن سے قبل جبری اقدامات کے ذریعہ بیرونی جاسوس ۔ایجنٹس یا انتہا پسند تنظیمیں قرار دیا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پوٹن کے سب سے زیادہ مشہور ناقد الیکسی نوالنی جنوری سے جیل میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف فراڈ کے پرانے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ مغربی حکومتیں ان الزامات کو سیاسی الزامات قرار دیتی ہیں۔

نوالنی کی ملک بھر میں کام کرنے والی تنظیم کو کریملن نے انتہا پسند قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

علاوہ ازیں پوٹن کے سابق قانون ساز ڈی مٹری گوڈکوو سمیت کئی دوسرے مخالفین کو الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ سیاستدان گوڈکوو جون میں ملک بدر ہوگئے تھے۔

2018 میں پولیس الیکسی نوالنی کو زیر حراست لے رہی ہے
2018 میں پولیس الیکسی نوالنی کو زیر حراست لے رہی ہے

یاد رہے کہ روس کی پارلیمان ڈوما کے لیے انتخابات 17 اور 19 ستمبر کے دوران معقد ہوں گے۔ ڈوما روس کا ایوان زیریں ہے۔

دوسری جانب ریاستی میڈیا ادارے حکومت مخالف سیاستدانوں کے الیکشن میں ممکنہ طور پر ہونے والے ووٹنگ فراڈ کےالزامات کو مسترد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان میڈیا آوٹ لیٹس کا کہنا ہے کہ یہ الزامات مغرب سے متاثرہ ایک مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد روس کے انتخابات کو بدنام کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات کے قریب جعلی خبروں کی بھرمار ہوگی۔

روسی خبر رساں ادارے، تاس کے مطابق کریملن سے دوستانہ تعلقات رکھنے والے ماہرین کے انڈیپینڈینٹ پبلک مانٹرنگ نامی گروپ نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں ووٹروں کو خریدنے یا انہیں یونایٹڈ پارٹی کے حق میں مجبور کرنے کے متعلق خبروں میں اضافہ ہوگا۔

ان انتخابات کے دوران الیکشن مبصرین کی غیر موجودگی نے بھی حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ گزشتہ ماہ یورپی تنظیم برائے سیکیورٹی اور تعاون نے اعلان کیا تھا کہ ان کے مبصرین روس کی طرف سے عائد سخت گیر پابندیوں کے باعث کے الیکشن کی نگرانی کرنے نہیں جائیں گے۔

گزشتہ تین دہائیوں میں یہ پہلی بار ہو گا کہ یورپی تنظیم کے مبصرین روس کے انتخابات کی نگرانی نہیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG