رسائی کے لنکس

logo-print

روس: شہاب ثاقب کے ٹکڑے گرنے سے 1100 افراد زخمی


سیاروں سے متعلق ناسا کے ایک عہدے دار جِم گرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ’فائر بالز‘ روزانہ کی بنیاد پر گرتے ہیںٕ، لیکن اِن میں سے زیادہ تر نظروں میں اس لیے نہیں آتے کیونکہ یا تو یہ سمندروں یا پھر دور افتادہ مقامات پر گرتے ہیں

روس میں شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے گرنے سے 1100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جب کہ کئی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ بات امریکہ کے بین الاقوامی خلائی ادارے، ناسا کے سیاروں سے متعلق سربراہ نے بتائی ہے۔

جِم گرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ’فائر بالز‘ روزانہ کی بنیاد پر گرتے ہیںٕ، لیکن اِن میں سے زیادہ تر نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں، کیونکہ یا تو یہ سمندروں یا پھر دور افتادہ مقامات پر گرتے ہیں۔

ادھر روس کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی وزارت کے مطابق اسپتالوں میں لائے بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جب کہ 112 زخمی تاحال اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

حکام کے مطابق یورول کے پہاڑی سلسلے پر شہاب ثاقب کے جلتے ہوئے ٹکڑے آسمان سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے جو بعد میں چیلجیابنسک کے علاقوں پر بارش کی صورت میں گرے۔

ان ٹکڑوں کے گرنے سے چیلجیابنسک کی زنک فیکٹری بھی متاثر ہوئی جب کہ بعض ٹکڑوں کے زمین سے ٹکرانے کے بعد ہونے والے دھماکوں میں کئی عمارتوں اور گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق چیلبانسک میں لوگ اپنے دفاتر اور جائے روزگار کی طرف رہے تھے کہ اُنھوں نے دھماکوں کی آواز سنی اور آسمان پر روشنی دیکھی جس سے وہ خوفزدہ ہو گئے۔

36 سالہ وکٹر پروکوفیی نے بتایا کہ ’’میں اپنے کام پر جا رہا تھا، کافی اندھیرا تھا لیکن اچانک ایسی روشنی پھیل گئی جیسے دن ہو گیا ہو۔‘‘

روس کے صدر ولادیمر پوٹن کو مطلع کیا گیا ہے کہ شہاب ثاقب کے ٹکڑے گرنے کے اس واقعہ میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

روس کی ایک وزارت نے کہا کہ ایسے واقعات انتہائی شاز و نادر ہی ہوتے ہیں اور اس کا تعلق ممکنہ طور اولیمپک سوئمنگ پول کے سائز کے اس سیارچے سے بھی ہو سکتا ہے جس نے 15 فروری کو کرہ ارض کے قریب سے گزرنا ہے۔

تاہم ماہرین امریکی اور یورپی ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG