رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل دفاعی نظام پہ روس اور نیٹو کے اختلافات برقرار


میزائل دفاعی نظام پہ روس اور نیٹو کے اختلافات برقرار

نیٹو اور روس کے درمیان مشرقی یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب پہ موجود اختلافات دور نہیں ہوسکے ہیں ا ور اس ضمن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کی جانب سے مجوزہ منصوبے پر روس کے خدشات دور کرنے کی تازہ کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ مجوزہ منصوبے پر اختلافات برقرار ہیں تاہم فریقین نے اس معاملے پر گفت و شنید جاری رکھنے پہ اتفاق کیا ہے۔

جمعرات کو برسلز میں جاری نیٹو وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ نے روس کے اس دعویٰ کو مسترد کیا کہ مجوزہ میزائل دفاعی نظام روس کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز روس نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کرکے یورپ میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع کردیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے روس نے منصوبے کے ردِ عمل میں بحیرہ بالٹک کے علاقے کیلینن گراڈ میں میزائل مخالف ریڈار اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ ٹیکنالوجی کے تبادلے اور میزائل دفاعی نظام کی مشترکہ تیاری پر آمادہ ہے، لیکن روس کی اس پیش کش کو نیٹو پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔

نیٹو کی جانب سے روسی پیشکش مسترد کیے جانے پر روسی افواج کے سربراہ نکولائی میکاروو نے کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اتحادی افواج اس منصوبے سے کچھ اور بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کے دوران افغانستان میں جاری فوجی کاروائی اور 2014ء تک افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا پر بھی غور کیا جائے گا۔

کوسوو میں جاری نیٹو کا مشن بھی اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG