رسائی کے لنکس

روس ’’ممکنہ طور پر‘‘ طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے: نیٹو کمانڈر


سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کی سماعت کے دوران، نیٹو کے ایک چوٹی کے کمانڈر، جنرل کرٹس کاپروتی نے بتایا کہ ’’میں نے دیکھا ہے کہ کافی عرصے سے روسی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جو رابطوں کے درجے کا ہے، اور شاید طالبان کو اسلحے کی فراہمی کا معاملہ ہے‘‘

ایسے میں جب افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج لڑائی میں مصروف ہیں، عین ممکن ہے کہ روس طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہا ہو۔ یہ بات ایک اعلیٰ امریکہ فوجی کمانڈر نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔


سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کی سماعت کے دوران، نیٹو کے ایک چوٹی کے کمانڈر، جنرل کرٹس کاپروتی نے بتایا کہ ’’میں نے دیکھا ہے کہ کافی عرصے سے روسی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جو رابطوں کے درجے کا ہے، اور شاید طالبان کو اسلحے کی فراہمی کا معاملہ ہے‘‘۔


کاپروتی نے اِس بات کی وضاحت نہیں کی آیا کس طرح کی رسد فراہم ہو سکتی ہے یا روس کی براہ راست مداخلت کس قسم کی ہو سکتی ہے۔


اُن کا یہ بیان اس شبہ کی بنیاد پر ہے جس کا گذشتہ ماہ جنرل جان نکلسن نے اظہار کیا تھا، جو افغانستان میں نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر ہیں، جنھوں نے کہا تھا کہ روس طالبان کو حوصلہ اور سفارتی مدد فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، نکلسن نے یہ نہیں بتایا تھا آیا روس دہشت گرد گروپ کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔


پچھلے ماہ، ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، اُنھوں نے کہا تھا کہ ’’روس طالبان کو جائز قرار دے رہا ہے اور طالبان کی مدد کر رہا ہے‘‘۔


روس، جس نے 1979ء میں افغانستان میں کھلی مداخلت کی تھی جو ایک عشرہ بعد جا کر ختم ہوئی، وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور آئندہ ہفتے چھ ملکی امن مذاکرات منعقد کرائے گا، جس میں امریکہ شامل نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG