رسائی کے لنکس

انتخابات میں روسی مداخلت پر تحقیقات، صدر ٹرمپ کی پریشانی


کیا صدر ٹرمپ اب خصوصی مشیر رابر ٹ ملر کو بر طرف کر سکتے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس اس امکان کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا، لیکن اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دے رہا۔

امریکی قانون ساز اور صدر ٹرمپ کئی ہفتوں تک کام کرنے کے بعد تعطيل پر واشنگٹن سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے بارے میں چھان بین جاری ہے ۔ سینیٹ نے تعطيل پر جانے سے پہلے ایک دو جماعتی بل متعارف کرایا جس کا مقصد روس کے بارے میں چھان بین کرنے والے خصوصي مشیر رابرٹ ملر کو صدر ٹرمپ کی جانب سے برطرفی کے اقدام کی صورت میں تحفظ فراہم کرنا تھا۔

صدر ٹرمپ نے تعطيل پر وہائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے اقتصادی بہتری کی خبر کا خیر مقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری کی شرح گذشتہ 16 سال میں سب سے کم تر سطح تک پہنچ گئی ہے اور گذشتہ سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار دو اعشاریہ چھ فیصد تک بڑھی ۔ خوشحالی ہماری سرحدوں پر واپس آرہی ہے کہ کیوں کہ ہم امریکی کارکنوں اور خاندانوں کو اولیت دے رہے ہیں۔

لیکن صدر کے لیے روس کے بارے میں تحقیقات بدستور پریشانی کا ایک سبب ہیں، جو بار بار اسے سیاسی بنیاد پر کی جانے والی ایک کارروائی قرار دے چکے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کوفی کو پہلے ہی بر طرف کر چکے ہیں جنہوں نے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق جسٹس ڈپارٹمنٹ کی تحقیقاتی کارروائی کی قیادت کی تھی۔

جیمز کومی کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی میرے بغیر ٹھیک رہے گی ۔ ایف بی آئی کا مشن دو ٹوک انداز میں آگے بڑھے گا۔

کیا صدر ٹرمپ اب خصوصی مشیر رابر ٹ ملر کو بر طرف کر سکتے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس اس امکان کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا، لیکن اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دے رہا۔

اے بی سی کے پروگرام’ دس ویک‘میں گفتگو کرتے ہوئے صدر کے مشیر کیل بان کون وے نے کہا کہ صدر نے تو ابھی اس پر گفتگو تک نہیں کی ہے ۔ صدر باب ملر کو بر طرف کرنے کے بارے میں گفتگو نہیں کر رہے۔

ایک ایسا بل تجویز کیا جا چکا ہے جو مسٹر ملر کی برطرفی کواور بر طرفی پر ایک جج کو نظر ثانی کا اختیار دے کر مستقبل میں کسی بھی غیر جانبدار تفتیش کار کی برطرفی کو دشوار بنا دے گا۔

ے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے ری پبلکن سینیٹر ٹام ٹیلس نے کہا کہ یہ کسی مشیر کو امکانی طور پر ہٹانے کے لیے صدر کو اٹارنی جنرل اور محکمہ انصاف کے ساتھ مشاورت کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن اس کے لیے عدالتی نظر ثانی لازمی ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدام کسی مناسب وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

صدر روس کے بارے میں تحقیقات پر بار بار تنقید کر چکے ہیں لیکن مسٹر ملر کیپیٹل ہل میں بدستور اچھی شہرت کے حامل ہیں۔

اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں ڈیمو کریٹ سینیٹر کرس کونزنے کہا کہ باب ملر جدید امریکی تاریخ میں وفاقی قانون کے نفاز کے ایک انتہائی محترم سینیر عہدے دار ہیں ۔ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ ایک ری پبلکن ہیں، جنہیں ایک ری پبلکن نے مقرر کیا ہے ۔یہ صدر ٹرمپ کے مفاد میں ہے، یہ قانون کی بالا دستی کے تحفظ کے مفاد میں ہے کہ باب ملر کر یہ اجازت دی جانی چاہیے کہ وہ اس تحقیقاتی کارروائی کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لیے کام جاری رکھیں۔

اسی دوران صدر کے اتحادیوں نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ کئی ماہ کی تحقیقات سے کچھ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے صدر کے مشیر کیل یان کون وے نے کہا کہ ہم سے مداخلت اور انتخابات کے نتائج میں تبدیلی سے متعلق براہ رأست ثبوت کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

گذشتہ ہفتے، مسٹر ملر نے مبینہ طور پر ایک گرینڈ جیوری تشکیل دی تھی تاکہ تحقیقات میں اکٹھے کئے گئے شواہد کا جائزہ لیا جائے، جو ایک ایسا اقدام ہے جو دائر کیے جانے والے الزامات پر منتج ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG