رسائی کے لنکس

logo-print

روسی عدالت نے گیتا کے ترجمے پر پابندی کی استدعا مسترد کردی


روسی عدالت نے گیتا کے ترجمے پر پابندی کی استدعا مسترد کردی

روس کی ایک عدالت نے پراسیکیوٹرز کی جانب سے’ہر ے کرشنا‘ کے ہندی زبان سے ترجمے پر پابندی لگانے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے بدھ کے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ایک حساس مسئلے کا دانش مندانہ حل قرار دیا۔

ترجمے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز نے روس میں رہنے والے ہندوؤں، بھارت اور دنیا میں کئی اور جگہ لوگوں کو برہم کردیاتھا۔ ترجمے کا متن ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا اور ہرے کرشنا تحریک کے بانی کے تبصرے پر مشتمل ہے۔

سائبیریا کے شہر ٹومسک کے پراسیکیوٹرز نے جون میں ترجمے کو ’انتہا پسندانہ مواد' قرار دیتے ہوئے عدالت سے اس پر پابندی لگانے کی استدعا کی تھی۔

ہرے کرشنا کے ایک ترجمان نے پراسیکیوٹرز کے دعوے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ کتاب تمام انسانوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دیتی ہے۔

عدالت کا فیصلہ ، بھارت کے لیے روسی سفیرسے بھارتی عہدے داروں کی ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ۔ اس ملاقات میں عہدے داروں نے اس معاملے میں مدد کی درخواست کی تھی۔

اس تنازع کے باعث یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ اس کے اثرات روس اور بھارت کے درمیان طویل مدتی تجارتی اور سفارتی تعلقات پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG