رسائی کے لنکس

شام میں داعش کو شکست دے دی گئی ہے: روس


روسی اسٹریٹجک بمبار طیارہ، ٹی یو 95 (فائل)

روس کے 'اسپیشل آپریشنز' کے محکمے میں جنرل اسٹاف کے سربراہ نے کہا کہ ''شام میں کوئی واحد گائون یا ضلعہ ایسا نہیں ہے جہاں داعش کا کنٹرول ہو۔ شام کی سرزمین کو اس دہشت گرد تنظیم کے لڑاکوں سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے''۔ تاہم، آزاد ذرائع نے روس کے اِس دعوے کو متنازع قرار دیا ہے

روس کی فوج نے جمعرات کو کہا ہے کہ شام میں داعش کے شدت پسند گروپ کا صفایا کرنے کا اُس کا مشن پورا ہوگیا ہے، اور یہ کہ ملک اس دہشت گرد گروپ سے ''مکمل طور پر آزاد'' ہوگیا ہے۔

اسپیشل آپریشنز کے محکمے میں جنرل اسٹاف کے سربراہ، سرگئی روڈسکوئی نے شدت پسند گروپ کا متبادل نام، داعش استعمال کرتے ہوئے، کہا ہے کہ ''روسی مسلح افواج کا ہدف شام میں داعش کے شدت پسند گروپ کے مسلح گروہوں کو شکست دینا تھا، جو مکمل طور پر حاصل کر لیا گیا ہے''۔

روڈسکوئی نے کہا کہ ''شام میں کوئی واحد گائون یا ضلعہ ایسا نہیں ہے جہاں داعش کا کنٹرول ہو۔ شام کی سرزمین کو اس دہشت گرد تنظیم کے لڑاکوں سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے''۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ داعش کی شکست ملک میں روس کی فضائی افواج اور اسپیشل فورسز کی ''مثالی کارروائیوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے''۔

روڈسکوئی نے کہا کہ ''دہشت گردوں کو شکست دینے کے آخری مراحل میں روس کی فضائی فوج کی تعیناتی نے مثالی کردار ادا کیا''۔

اُنھوں نے کہا کہ فضائی افواج سے رابطے میں رہ کر روزانہ 100 سے 250 فضائی کارروائیاں کی گئیں، جس کے باعث روسی افواج نے مختلف مقامات پر، جن پر داعش کا قبضہ تھا، شدت پسند گروپ کے ''خطرناک ترین'' لیڈروں کا چن چن کر صفایا کیا۔

تاہم، آزاد ذرائع نے روس کے اِس دعوے کو متنازع قرار دیا ہے کہ شام کو داعش سے مکمل طور پر پاک کرا لیا گیا ہے۔

لندن میں قائم 'سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس' نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اب بھی داعش شام کے تقریباً تین فی صد رقبے پر قابض ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG