رسائی کے لنکس

مذاكرات سے قبل روس کے شام میں داعش پر فضائی حملے


شام پر روس کے فضائی حملے کی یہ تصویر روس کی وزارت دفاع کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔ ان حملوں میں ٹی یو 22 ایم 3 طیاروں نے حصہ لیا۔ 26 نومبر 2017
شام پر روس کے فضائی حملے کی یہ تصویر روس کی وزارت دفاع کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔ ان حملوں میں ٹی یو 22 ایم 3 طیاروں نے حصہ لیا۔ 26 نومبر 2017

مغربی طاقتیں اسد کی حکومت پر بمباری اور بڑے پیمانے پر اذیت رسانی اور ہلاکتوں سمیت انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی ہیں ۔ لیکن اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے ان کے مطالبے کم ہو گئے ہیں۔

شام کے تنازعے میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتوں نے مداخلت کی ہے اور وہ کسی بھی امن معاہدے کی شرائط طے کرانے کی کوشش کررہی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگران ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اتوار کےروز مشرقی شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے پر روسی فضائی حملوں میں50 سے زیادہ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

ماسکو نے تصدیق کی کہ فضائی حملے اس کے بمباروں نے کئے تھے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں صرف عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

سال 2015 سے روس نے شام کے صدر بشار االاسد کی وفادار فورسز کو درپیش بڑے بڑے علاقائی نقصانات کا پانسہ پلٹ دیا ہے ۔چیتھم ہاؤس کی تجزیہ کار جین کینن مونٹ کہتی ہیں کہ اگرچہ روس قیام امن کے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم یہ اس کی فوجی مداخلت ہے، جن کی وجہ سے واقعی ایسے حالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں جو بظاہر بظاہر بشار الاسدکے لیے ایک ابھرتی ہوئی فتح دکھائی دے رہے ہیں۔

جنیوا مذاكرات میں ایسا پہلی بار ہوا کہ مختلف دھڑوں کی نمائندگی کوئی ایک واحد متحدہ وفد کرے گا ۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسد شام کےمستقبل میں کوئی کردار ادا نہ کریں۔

حزب اختلاف کے مذاکراتی وفد کے سر براہ نصر الحریری کہتے ہیں کہ اب ہر چیز بحث کے لیے مذاکراتی میز پر ہے۔

مغربی طاقتیں اسد کی حکومت پر بمباری اور بڑے پیمانے پر اذیت رسانی اور ہلاکتوں سمیت انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی ہیں ۔ لیکن اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے ان کے مطالبے کم ہو گئے ہیں۔

اگرچہ روس اور ایران اسد کی پشت پناہی کر چکے ہیں تاہم مغربی طاقتیں جن میں امریکہ شامل ہے، داعش سے نبرد آزما اعتدال پسند گروپس کی حمایت کر تے ہیں ۔ شمالی علاقوں پر کرد فورسز کے کنٹرول نے ترکی کا ناراض کر دیا ہے جو اپنے فوجی شام بھیج چکا ہے۔

جین کینن مونٹ کہتی ہیں کہ تمام فریق اب جنگ سے تنگ آچکے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ شام کا تنازع مقامی وجوہ کی بنیاد پر شروع ہوا تھا لیکن اسے جزوی طور پر بین الاقوامی مداخلت نے ہوا دی تھی۔ تو اب کیوں کہ بین الاقوامی طاقتیں واقعی اس جنگ کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتیں اس لیے اس میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔ تاہم اس شورش کے اولین مقاصد، یعنی ڈکٹیٹر شب سے لڑنا اور شام میں ایک مزید باوقار طرز زندگی لانا، ان میں سے ابھی تک کوئی مقصد پورا نہیں ہوا ہے۔

حریف طاقتیں جس طرح تنازعے پر اثر انداز ہوئی تھیں اسی طرح وہ امن پر اثر انداز ہونے کی بھی کوشش کر رہی ہیں، روس نے گذشتہ ہفتے جنیوا کے عمل سے ہٹ کر بحیرہ اسود کے تفریحی مقام سوچی میں مذاكرات کا ایک مرحلہ الگ سے شروع کر دیا ۔ شام کی حزب اختلاف کے گروپس اس بارے میں منقسم ہیں کہ آیا اس میں شامل ہوا جائے یا نہیں۔

اسی دوران وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوٹن نے گذشتہ ہفتے ٹیلی فون پر جنیوا مذاكرات کی اہمیت پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG