رسائی کے لنکس

logo-print

غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں، طالبان اور روس کا مطالبہ


روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف، فائل فوٹو

طالبان اور روسی حکام نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں موجود غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔ طالبان کے مذاکراتی نمائندے ملا برادر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ملا عبدالغنی برادر نے یہ بیان روس کے دارالحکومت ماسکو مین روسی حکام، افغان حکومت کے نمائندوں اور افغان سیاست دانوں کے اجلاس کے دوران دیا۔ اس اجلاس کا اہتمام روس نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا ہے۔

ملا برادر نے اپنی تقریر میں کہا کہ طالبان افغانستان میں قیام امن کے عہد پر قائم ہے۔ تاہم اس سلسلے میں پہلا قدم رکاوٹیں دور کرنا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ افغانستان پر غیر ملکی تسلط کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

اجلاس کے آغاز پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کو ہر صورت نکلنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کے لیے صرف سفارتی اور سیاسی حل پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

افغان طالبان کے نائب امیر اور قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی بردار کی سربراہی میں 14 رکنی افغان وفد، افغان سیاسی رہنماؤں اور عمائدین سے دو روزہ بات چیت کے لیے ماسکو میں ہے۔

روسی خبر رساں ادارے طاس کے مطابق افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، روس میں افغانستان کے سفیر لطیف بہند نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کیا بہند طالبان وفد کے ساتھ بات چیت کریں گے یا نہیں۔

قبل ازیں طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان مذاکرات کار افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کے لیے ماسکو میں افغان ساسی رہنماؤں اور عمائدین سے ماسکو میں ملاقات کریں گے۔ تاہم مجاہد نے یہ نہیں بتایا کہ طالبان نمائندے افغان حکومت کے کسی نمائندے سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔

ماسکو میں یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہوا جب امریکہ نے طالبان کے ساتھ امن سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے حالیہ مہینوں کے دوران قطر میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں۔

اگرچہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے سلسلے میں دونوں فریق یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن طالبان افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کر رہے ہیں اور اپریل میں طالبان اور افغان وفد کے درمیان ہونے والے بات چیت منسوخ ہو گئی تھی۔

طالبان گزشتہ سال نومبر میں ماسکو میں افغان سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کر چکے ہیں لیکن اس بات چیت میں صدر اشرف غنی کی حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG