رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشین طیارے کی تباہی کا معاملہ، روس نے قرارداد ویٹو کر دی


امریکہ نے روس کی طرف سے قرارداد کو ویٹو کرنے پر غصے اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب سمانتھا پاور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا سب کے مفاد میں ہے۔

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے جس کے تحت گزشتہ سال یوکرین میں مار گرائے گئے ملائیشین ایئرلائنز کے مسافر طیارے کے ذمہ داروں پر مقدمہ چلانے کے لیے بین الاقوامی ٹربیونل تشکیل دیا جانا تھا۔

یوکرین، آسٹریلیا، بیلجیئم، ملائیشیا اور نیدرلینڈز ایسے ٹربیونل کے قیام کی حامی ہیں اور ملائیشیا نے اس کے قیام کے ضمن میں ایک مسودہ قرارداد پیش ارکان میں تقسیم کیا تھا۔ بدھ کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں ان تمام ممالک کے سفیر بھی موجود تھے۔

15 رکنی سلامتی کونسل میں 11 نے اس ٹربیونل کے قیام کے حق میں ووٹ دیا جب کہ چین، انگولا اور وینزویلا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

گزشتہ سال 17 جولائی کو ملائیشین ایئرلائنز کا جہاز ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہا تھا کہ مشرقی یوکرین پر سے گزرتے ہوئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل کا نشانہ بن کر تباہ ہوگیا۔ اس علاقے میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فورسز میں لڑائی جاری تھی۔

طیارے پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں اکثریت کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔

قرارداد کو ویٹو کرنے سے متعلق روس کا کہنا ہے کہ وہ ہالینڈ کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہے اور اس نے اپنا تیار کردہ ایک مسودہ قرارداد پیش کیا ہے جس میں ٹربیونل کا ذکر تو نہیں لیکن اس معاملے کے بین الاقوامی تحقیقات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

امریکہ نے روس کی طرف سے قرارداد کو ویٹو کرنے پر غصے اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب سمانتھا پاور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا سب کے مفاد میں ہے۔

"جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ایسی کسی چیز میں روس کا ہاتھ ہے، جب پوری دنیا اس پر متحد ہے کہ ایک مسافر طیارہ تباہ ہوا اور بہت سے خاندان اس سے متاثر ہوئے تو یہ ہم سب کے مفاد میں ہے کہ ہم انصاف ہوتا ہوا دیکھیں۔"

یوکرین سمیت مغربی ملکوں کا ماننا ہے کہ اس مسافرطیارے کو یا تو روسی فوجیوں یا علیحدگی پسندوں نے میزائل سے نشانہ بنایا لیکن ماسکو اس تاثر کو مسترد کرتا ہے۔

روس اس واقعے کا جو رخ پیش کرتا ہے اس کے مطابق یوکرین کے لڑاکا طیارے نے مسافر جہاز کو نشانہ بنایا لیکن کیئف اس کی تردید کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG