رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا شامی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر یکطرفہ کارروائی کا انتباہ


نمائندہ خصوصی دو مستورا کا کہنا تھا کہ "اگر وہ حقیقت پسندی سے بات چیت نہیں کرتے، تو ہم ماضی میں چلے جائیں گے جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے اور اس بات کا ادراک انھیں بھی ہے۔"

روس نے متنبہ کیا ہے کہ وہ شام میں "جنگی سرگرمیاں" بند کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف منگل سے یکطرفہ طور پر کارروائی کر سکتا ہے۔

یہ بیان ان شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی روس کے ساتھ مشترکہ نگرانی کے عمل پر سست روی سے کام کر رہا ہے۔

اس معاہدے کو متعارف کروانے میں روس اور امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے تحت شام میں سوائے دہشت گرد گروپوں پر حملوں کے، ہر طرح کی جنگی کارروائیوں کی ممانعت ہے۔

ادھر شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی استیفاں دی مستورا کا کہنا ہے کہ انھیں روس امریکہ تعاون میں کسی بھی طرح کے انتشار پر تشویش ہے۔ وہ جنیوا میں شام کے متحارف فریقین کے مابین بات چیت کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "اگر وہ حقیقت پسندی سے بات چیت نہیں کرتے، تو ہم ماضی میں چلے جائیں گے جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے اور اس بات کا ادراک انھیں بھی ہے۔"

دی مستورا کے مطابق جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پر خاصی حد تک عمل ہو رہا ہے لیکن ان کے لیے یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ اگر سیاسی عمل وقوع پذیر نہیں ہوتا تو شام میں یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔

منگل کو دی مستورا شام کے صدر بشار الاسد کے مخالف گروپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ ایسی ہی ملاقاتیں بدھ اور جمعرات کو بھی کریں۔

ان کے بقول بات چیت کا اگلا دور اپریل میں ہوسکتا ہے لیکن اس کی حتمی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG