رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب شامی باغیوں کو پاکستانی اسلحہ نہ دے، روس


روس نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایسا کوئی بھی قدم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دوسرے خطوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔

روس نے سعودی عرب کو خبر دار کیا ہے کہ وہ شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو کاندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل لانچر دینے سے باز رہے۔

منگل کو روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایسا کوئی بھی قدم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دوسرے خطوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روس سعودی عرب کی جانب سے کندھے پر رکھ کر زمین سے فضا میں مار کرنے والے طیارہ اور ٹینک شکن پاکستان ساختہ میزائلوں کی خریداری اور انہیں شامی باغیوں کو فراہمی کی خبروں پر "سخت تشویش" میں مبتلا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام کا مقصد باغیوں کی جانب سے صدر بشار الاسد کے خلاف آنے والے موسمِ بہار میں کی جانے والے کاروائیوں کو موثر بنا کر شام میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا ہے۔

بیان میں روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ "حساس ہتھیار" شام میں موجود انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے تو اس کا قوی امکان ہے کہ "بالآخر ان ہتھیاروں کو شام کے سرحدوں کے بہت باہر تک استعمال کیا جائے گا"۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے کاندھے پر رکھ فائر کیے جانے والے ٹینک اور طیارہ شکن میزائل خریدنے کے لیے رابطے کیے ہیں جنہیں اردن کے راستے شامی باغیوں کو فراہم کیا جائے گا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس خبر کی تردید کی ہے جب کہ اس دعوے پر سعودی عرب کا ردِ عمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

شام کے بحران پر روس اور سعودی عرب کے تعلقات خاصے کشیدہ ہیں کیوں کہ ماسکو حکومت صدر بشار الاسد کی واحد اتحادی عالمی طاقت ہے جب کہ سعودی عرب شامی باغیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا پرجوش حامی ہے۔
XS
SM
MD
LG