رسائی کے لنکس

logo-print

روسی خاتون صحافی کی آزادیِ رائے اور حقوق کی جد و جہد


اولگا رومانووا، فائل فوٹو

اولگا رومانووا آزاد روسی چینل نیٹ ورک رین ٹی وی کے مشہور پروگرام کی سابقہ میزبان ہیں اور آزادیِ رائے کا حق استعمال کرنے کے سبب کئی تنازعات کا سامنا کر چکی ہیں۔

انہیں شہریوں کے سیاسی اور سول حقوق پر کام کرنے کے پاداش میں اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ انہیں اس دوران ہراساں بھی کیا گیا۔

وائس آف امریکہ کو اپنے تجربات بتاتے ہوئے اولگا نے، جو اب جرمنی میں مقیم ہیں، کہا کہ وہ تنقیدی صحافی ہیں اور ان کے بیانات کی بنا پر انہیں کئی بار ملازمت سے فارغ کیا گیا۔

اولگا نے بتایا کہ 2008 میں انہوں نے "رشیا بی ہائینڈ بارز" یعنی روس سلاخوں کے پیچھے نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی، جس کا مقصد قید و بند کی صعوبتوں کے شکار لوگوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں:

"سن 2011 میں مَیں نے جدید روسی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔"

لوگوں کے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کے ساتھ ساتھ اولگا نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، کرائیمیا کے علاقے کے جبری چھین لینے اور یوکرین کے خلاف جنگ پر بھی آواز بلند کی۔

وہ کہتی ہیں کہ حکام نے کئی بار ان کی تلاش کی اور ہراساں کیا۔

2017 میں اولگا نے روس کو اس وقت خیر باد کہہ دیا جب ان کی نتظیم "رشیا بی ہائنڈ بارز" کی بارہا تلاشی لی گئی اور وہ کہتی ہیں کہ یہ ایذا رسانی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

وہ کہتی ہیں:

"میری تنظیم برلن سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تنظیم کے ملازمیں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے تمام اراکین یا تو خود قیدی رہ چکے ہیں یا قیدیوں کے رشتہ دار ہیں۔"

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس تنظیم کو قائم کیا تو اس وقت ان کے ساتھی اراکین کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اب ان کے ساتھی باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں اور ان کے پورے خاندان کو روس سے نکلنا پڑا۔

"ہماری تنظیم کے بینک اکاونٹ منجمند کر دیے گئے لیکن اب ہم بٹ کوائین اور پے پال کی سروس کو استعمال کر کے کام کرتے ہیں۔"

اولگا نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں وہ کئی بار روس واپس گئی ہیں اور ہر بار حالات خطرناک رہے ہیں۔

"لیکن اب روس کے حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنے کو زہر دینے کے واقعہ کے بعد میں نہیں سمجھتی کہ میں روس جا پاؤں گی کیونکہ ایسا کرنا انتہائی خطرناک ہو گا۔"

وائس آف امریکہ نے اس انٹرویو میں اٹھائے گیے سوالات کے جواب لینے کے لیے روس کی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا، لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG