رسائی کے لنکس

روسی فوجی وفد کا شمالی وزیرستان کا غیر معمولی دورہ


روس کے ایک فوجی وفد نے افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق روس کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کرنل اسراکوف سرگئی یوریوچ کی قیادت میں ایک فوجی وفد نے جمعرات کو شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کا دورہ کیا۔

بیان کے مطابق روسی وفد کو قبائلی علاقوں کو ہر طرح کے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بارے میں پاکستانی فوج کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔

روسی فوجی وفد کو پاک افغان سرحد کی نگرانی اور قبائلی علاقوں میں دیرپا امن و استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق روسی فوجی وفد نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

دفاعی اُمور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور اُن کے بقول شمالی وزیرستان کے دورے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں ملک دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

’’اس کا سارا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں گہرائی آئے اور ایک ایسے تعلقات بنیں جس میں دونوں ایک دوسرے کی حمایت کریں اور خاص طور سے دہشت گردی کے خلاف۔۔۔۔ اور کوئی ایسی پناہ گاہ نا ہو جس سے روس کو یا پاکستان کو نقصان ہو۔۔۔ چونکہ روس کا ابھی بھی بڑا اثرورسوخ ہے افغانستان میں تو ایک لحاظ سے میرے خیال میں اس کے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی آئندہ چل کر مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔‘‘

حال ہی میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ روس افغان طالبان کی بھی مدد کر رہا ہے۔ اس پر لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ اب سامنے آنے والی صورت حال سے تو ہی لگتا ہے کہ روس داعش کے خلاف افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔

’’داعش جو ہے اس سے وہ (روس) بڑا پریشان ہے، کہ داعش کا جو زور وہ افغانستان میں اور روس کے کچھ علاقوں میں بڑھتا جا رہا ہے خاص طور سے جہاں مسلمان آبادی ہے۔۔۔ تو میں اس کو اس طریقے سے دیکھتا ہوں کہ اس وجہ سے میرے خیال میں روس طالبان سے تعاون کرتا کہ داعش کے خلاف وہ کارروائی کریں۔‘‘

پاکستان کی سینیٹ کے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے رکن سینیٹر لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) صلاح الدین ترمذی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان خطے کے ممالک خاص طور پر روس سے دفاع کے شعبے میں تعاون میں اضافہ چاہتا ہے۔

’’ابھی تو ہم کوشش کر رہے ہیں روس سے کچھ (فوجی سازوسامان) خریدیں تو اس حساب میں ابھی دیکھیں ہم نے ان کو اس علاقے میں لے گئے ہیں جو دہشت گردی کا شکار ہےاور انھوں نے حوصلہ افزائی کی ہے۔۔۔۔۔ روس ایک اہم عالمی طاقت ہے خاص طور پر اس خطے میں تو یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

واضح رہے کہ روس نے افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں میں بھی کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اور اسی سلسلے میں آئندہ ماہ کے وسط میں ماسکو ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس میں افغانستان، پاکستان، روس، چین، بھارت اور ایران کی بھی شرکت متوقع ہے۔

پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس میں خاص طور پر دفاعی شعبے میں تعاون کا فروغ شامل ہے۔

رواں سال فروری میں پاکستان کی بحریہ کی طرف سے منعقدہ کثیر القومی بحری مشقوں میں روس نے بھی حصہ لیا تھا جب کہ اس سے قبل ستمبر 2016ء میں پاکستان اور روس کے فوجیوں کی پہلی مشترکہ مشقیں پاکستان میں ہوئی تھیں۔

2014ء میں روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد سے ماسکو کی طرف سے اسلام آباد کے لیے لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا معاہدہ بھی ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG