رسائی کے لنکس

logo-print

روس: قانون سازوں کا غیر سرکاری تنظیموں کی چھان بین کا مطالبہ


ایک روسی قانون کے مطابق ملکی یا بین الاقوامی "ناپسندیدہ" غیر سرکاری تنظیموں پر روس میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور روسی تنظیموں پر ان سے فنڈز وصول کرنے پر پابندی ہے۔

روس کی پارلیمان کے ایوان بالا نے ایک درجن غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حال ہی میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت اس بات کا تعین کیا جا سکے آیا ان کو "ناپسندیدہ" قرار دیا جائے یا نہیں۔

فیڈریشن کونسل نے بدھ کو باضابطہ طور پر روس کی خارجہ اور انصاف کی وزارتوں اور پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے کہا کہ وہ ان 12 تنظیموں کے معاملات کی چھان بین کریں جو اس فہرست میں شامل ہیں جو قانون سازوں کے بقول ان "غیر ملکی یا بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں پر مشتمل ہے جو روس مخالف تعصب کے بنا پر جانی جاتی ہیں"۔

ایک روسی قانون کے مطابق ملکی یا بین الاقوامی "ناپسندیدہ" غیر سرکاری تنظیموں پر روس میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور روسی تنظیموں پر ان سے فنڈز وصول کرنے پر پابندی ہے۔

اس سال مئی میں صدر ولادیمر پیوٹن نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس کے تحت استغاثہ کو ان غیر ملکی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو"ناپسندیدہ" قرار دینے کا اختیار ہو گا جن کی سرگرمیوں کو روس کے آئینی نظام" دفاعی صلاحیت اور ریاست کی سکیورٹی" کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔

وہ روسی شہری جو ان تنظیموں کے ساتھ "روابط" جاری رکھیں گے ان کو 10,000 ڈالر کا جرمانہ یا چھ سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

2012ء میں روس کی مقننہ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت حکام کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ان روسی غیر سرکاری تنظیموں کو "غیر ملکی ایجنٹ " قرار دے سکتے ہیں جو غیر ملکی فنڈز حاصل کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG