رسائی کے لنکس

روس: حزب مخالف کے رہنما نیوالینے کو حراست میں لے لیا گیا


پولیس نے نیوالینے کو اس وقت حراست میں لے لیا جب انہوں نے اپنے گھر میں اپنی نظر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مظاہرے میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

روس میں حزب مخالف کے رہنما الیکسی نیوالینے کو وسطی ماسکو میں ایک مظاہرے میں شرکت کرتے وقت حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ مظاہرہ ان کو ایک عدالت کی طرف سے بدعنوانی کے الزامات میں دی جانے والی سزا کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ عدالت نے نیوالینے، جو ایک وکیل اور بلاگر بھی ہیں، کو معطل قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کے بھائی اولیگ نیوالینے کو ساڑھے تین سال کی سزا دے کر انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔

الکیسی نیوالینے کے سینکڑوں حامیوں کی طرف سے منگل کی رات کریملن کے قریب مظاہرے میں مطالبہ کیا گیا کہ حزب مخالف کے رہنما اور ان کے بھائی کو رہا کیا جائے۔

پولیس نے نیوالینے کو اس وقت حراست میں لے لیا جب انھوں نے اپنے گھر میں اپنی نظر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مظاہرے میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

اس سے پہلے نیوالینے نے اپنے حامیوں سے ان کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں دی گئی معطل سزا کے بعد تسلسل سے مظاہروں کے لیے کہا تھا۔

واشنگنٹن میں امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان جیف راتھکے نے ان کو مجرم قرار دینے کے فیصلے کو " پریشان کن" قرار دیا۔

راتھکے نے کہا کہ "ہماری نظر میں یہ ایک پریشان کن پیش رفت ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد سزا دینا اور سیاسی سرگرمی کو روکنا ہے۔ یہ آزادی اظہار کے خلاف روسی حکومت کی بڑھتی ہوئی سخت کارروائی کو ظاہر کرتی ہے"۔

روسی امور کے ایک تجزیہ کار نکولائی پیٹروف کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں نیوالینے کی بجائے صرف ان کے بھائی کو جیل بھیجنے کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریملن کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں حزب مخالف کے رہنما "سیاسی شہید" نہ بن جائیں۔

نیوالینے کے 33,000کے قریب حامیوں نے 15 جنوری کو مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس روز اُنھیں سزا سنائی جانی تھی لیکن عدالت نے یہ فیصلہ دو ہفتے پہلے ہی سنا دیا۔

منگل کی شام ہنگامی طور پر منظم کیے جانے والے اس مظاہرے میں نیوالینے کے حامیوں کے ایک چھوٹے گروپ نے روس میں آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور صدر پوٹن کی ملامت کی۔

XS
SM
MD
LG