رسائی کے لنکس

روسی صدر نے کہا ہے کہ ’’ہم بہت خوش ہیں کہ ہمارے ملکوں کے مابین مراسم تیزی کے ساتھ دوبارہ قائم ہو رہے ہیں‘‘، اور ’’سب سے پہلے ہم شام کے سنگین بحران کو حل کرنے کے لیے متحرک طور پر کام کر رہے ہیں‘‘

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ روس ترک تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، ایسے میں جب دونوں ملک چھ برس سے جاری شام کے تنازع میں لڑائی کی شدت میں کمی لانے کا طریقہٴ کار تلاش کر رہے ہیں۔

ماسکو میں ترک صدر طیب اردوان کا خیرمقدم کرتے ہوئے، پیوٹن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم بہت خوش ہیں کہ ہمارے ملکوں کے مابین مراسم تیزی کے ساتھ دوبارہ قائم ہو رہے ہیں‘‘۔


اُنھوں نے کہا کہ ’’سب سے پہلے ہم شام کے سنگین بحران کو حل کرنے کے لیے متحرک طور پر کام کر رہے ہیں‘‘۔

دسمبر میں روس اور ترکی نے شام میں جنگ بند کرانے کے لیے مل کر کام کیا تھا۔ اِس کے علاوہ، اُنھوں نے اِسی سال حکومتِ شام اور حزبِ مخالف کے درمیان دو مذاکراتی اجلاس منعقد کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی، اُنھوں نے شام میں داعش کے شدت پسند گروپ کی جاری مہم پر قابو پانے کی کوششیں کی ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں فروغ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اُنھوں نے شام میں مخالفانہ کردار ادا کیا ہے، جب روس شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی مدد جب کہ ترکی شام مخالف افواج کی حمایت کر رہا ہے۔

گذشتہ ماہ ایک روسی فضائی حملے کے دوران حادثاتی طور پر تین ترک فوجی ہلاک ہوئے۔ لیکن، اس کے باعث دونوں ملکوں کے مابین فوجی رابطہ پٹری نہیں اترا۔

اِس ہفتے کے اوائل میں روس، ترکی اور امریکہ کے چوٹی کے فوجی اہل کاروں کی ترک شہر اناتولیہ میں ملاقات ہوئی، جس کا مقصد بظاہر ایسے واقعات کو روکنا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG