رسائی کے لنکس

روس: ولادیمیر پوٹن چوتھی مرتبہ صدر بننے کے لیے تیار


روسی صدر ولادی میر پوٹن۔ فائل فوٹو

آئیندہ سال مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور روس کی حکومت نے سینٹرل الیکشن کمشن کو ان انتخابات کے انعقاد کیلئے 17 ارب 70 کروڑ روبل یعنی 30 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم جاری کر دی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے آج بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ یوں انتخاب جیتنے کی صورت میں اُن کا دور اقتدار 2024 تک بڑھ جائے گا۔ پوٹن 2000 سے ملک کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔

روسی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انٹرنیشل اولمپک کمیٹی نے جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپک گیمز میں روس کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انٹرنیشنل اولپک کمیٹی کے مطابق یہ پابندی ریاستی ایما پر ملکی سطح پر اپنائی جانے والی ڈوپنگ پالیسی کے باعث لگائی گئی ہے۔ روسی صدر پوٹن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روسی انتخاب کو متاثر کرنے کیلئے ایک ’ امریکی سازش‘ ہے۔

سرایں اثنا اپوزیشن لیڈر گیناڈی زیوگینوف پر اس انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس کی وجہ اُن پر ماضی میں لگایا گیا مالی رقوم کی خرد برد کا الزام ہے۔ تاہم زیوگینوف کا کہنا ہے کہ یہ الزام محض سیاسی بنیادوں پر لگایا گیا تھا۔

آئیندہ سال مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور روس کی حکومت نے سینٹرل الیکشن کمشن کو ان انتخابات کے انعقاد کیلئے 17 ارب 70 کروڑ روبل یعنی 30 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم جاری کر دی ہے۔

پروگرام کے مطابق یہ انتخاب 18 مارچ کو ہو گا ۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ روسی حکومت اس بات کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ اس انتخاب کا انعقاد اس انداز میں ہو کہ وہ مکمل طور پر شفاف اور آزاد نظرآئے۔

روس کے سنٹرل الیکشن کمشن کے ڈپٹی چیئرمین نکولائی بولاییو نے سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کو بتایا ہے کہ 14000 الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں ملک بھر موجود پولنگ اسٹیشنوں کو فراہم کی جارہی ہیں۔ یوں ہر پولنگ اسٹیشن میں ایک الیکٹرانک ووٹنگ مشین موجود ہو گی۔

گزشتہ برسوں میں روس کے تمام پولنگ اسٹیشنوں میں CCTV کیمرے نصب کر دئے گئے تھے جن کے ذریعے اندر کی تمام کارروائی کو براہ راست انٹرنیٹ پر نشر کیا جا رہا تھا۔ لیکن ان کیمروں کے ذریعے بیلٹ بکسوں کو جعلی ووٹوں سے بھرنے کے مناظر بھی انٹرنیٹ پر دیکھے تھےجن سے انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے سوال کھڑے ہو گئے تھے۔

اگلے سال مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے حوالے سے اس بات کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ انتخاب میں لوگوں کی دلچسپی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے اور بہت سے لوگ ووٹ دینے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ نہیں کریں گے۔ اس بات کا اندازہ گزشتہ ستمبر میں ہونے والے میونسپل اور علاقائی انتخابات سے ہوتا ہے جن میں ووٹر ٹرن آؤٹ بہت کم رہا تھا۔ یوں روسی حکومت کو 70/70 صدارتی انتخاب کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے جس میں 70 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ہو اور اُس کا کم سے کم 70 فیصد ولادی میر پوٹن کو ووٹ دے۔

تاہم روس کے ممتاز تجزیہ کار اور صحافی مارک گالیوٹی کا کہنا ہے کہ پوٹن اور اُن کا عملہ اس بات کی سر توڑ کوشش کرے گا کہ وہ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن جا کر ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے اور اس کیلئے وہ کوئی بھی حربہ استعمال کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG