رسائی کے لنکس

logo-print

حادثے کا شکار ہونے والی روسی آبدوز جوہری توانائی سے چلتی تھی


فائل فوٹو

وزارت دفاع نے حادثے کے دوسرے دن تک اس کی اطلاع نہیں دی جس کی وجہ سے چند ناقدین کا کہنا ہے کہ روس پوری بات نہیں بتا رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز جوہری توانائی سے چلنے والی ایک آبدوز میں آگ لگ گئی تھی جس سے عملے کے 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آبدوز کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

اس بارے میں صدر پوٹن نے جمعرات کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔ روس کی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی ایک سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ صدر پوٹن نے حادثے کا شکار ہونے والی آبدوز کے بارے میں تصدیق سے پہلے اپنے وزیر دفاع سے مشاورت کی تھی۔

وزیر دفاع سرگئی سوئےگو کا کہنا تھا کہ اس آبدوز کو چاروں طرف سے سر بمہر کر دیے جانے سے پہلے عملے کے افراد کو باہر نکال لیا گیا تھا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آبدوز کو دوبارہ زیر استعمال لایا جا سکے گا اور عملے کے افراد نے آبدوز کو بچانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے تھے۔

روسی بحریہ کے 14 افراد اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ لیکن یہ آبدوز سویرو موسک نامی بندرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ عملے کے افراد دھوئیں کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

یہ تو واضح نہیں ہے کہ حادثے کے وقت عملے کے کتنے افراد آبدوز پر سوار تھے، تاہم روسی حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ افراد زندہ بچ جانے میں کامیاب رہے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آبداز میں آگ اس وقت لگی جب یہ روس کے پانیوں میں معلومات اکٹھا کرنے میں مصروف تھی۔

وزارت دفاع نے حادثے کے دوسرے دن تک اس کی اطلاع نہیں دی جس کی وجہ سے چند ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ روس پوری بات نہیں بتا رہا۔

اُن پانیوں میں تابکاری کا سراغ لگانے والے ناروے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تابکاری کا سراغ نہیں ملا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG