رسائی کے لنکس

logo-print

نسل کُشی کے الزام میں روانڈا کے سابق افسر کو 25 سال قید کی سزا


انتہا پسند ہوٹو لوگوں نے 1994 کی نسل کُشی میں اندازاً آٹھ لاکھ ٹُٹسی لوگوں اور اعتدال پسند ہوٹو لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

جنگی جرائم کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایک عدالت نے روانڈا کے ایک سابق افسر کو 1994 کی نسل کُشی میں عمل دخل کی پاداش میں 25 سال قید کی سزا سُنائى ہے۔

تنزانیہ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت برائے روانڈا نے لیفٹننٹ کرنل ایفرَیم سِتاکو کو نسل کُشی، خلافِ انسانیت جرائم اور دوسرے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ سِتاکو نے 1994 میں روہنگری کے علاقے کے شمال مغرب میں واقع فوجی کیمپ میں ٹُٹسی قبیلے کے 50 لوگوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ سِتاکو اُس وقت وزارتِ دفاع کے تحت قانونی امور کے ڈویژن کے سربراہ کے طور پر کام کررہا تھا۔

سِتاکو کو 2004 میں نیدرلینڈ میں گرفتار کرنے کے بعد عروشا میں اقوامِ متحدہ کی حوالات میں منتقل کردیا گیا تھا، جہاں اُسی سال اُس پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے۔

انتہا پسند ہوٹو لوگوں نے 1994 کی نسل کُشی میں اندازاً آٹھ لاکھ ٹُٹسی لوگوں اور اعتدال پسند ہوٹو لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG