رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کا صدیق الفاروق کو عہدے سے ہٹانے کا حکم


صدیق الفاروق، فائل فوٹو

صدیق الفاروق کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ متروکہ وقف املاک کے تمام معاملات جوڈیشل نوعیت کے ہیں۔ ماضی میں غلطیاں ہوتی رہیں اب نہیں ہوں گی۔

پاکستان میں سپریم کورٹ نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق کو ان کے عہدہ سے ہٹانے اور قانون کے مطابق نئے چیئرمین کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صدیق الفاروق کا بطور چیئرمین متروکہ وقف املاک ریکارڈ پیش کر دیا ہے۔ ان کی بطور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ تعیناتی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ نئے چیئرمین کی سمری جلد بھیج دی جائے گی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سمری ارسال کریں لیکن پہلے صدیق الفاروق کو فارغ کریں۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے وکیل نے کہا کہ قوانین کے مطابق نئے چیئرمین کی تعیناتی تک صدیق الفاروق کام جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کو توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے ان کے دلائل رد کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدیق الفاروق کے خلاف ہائی کورٹ میں چلنے والے کو وارنٹو کے مقدمے کی فائل از خود نوٹس کے تحت طلب کرتے ہیں اور صدیق الفاروق کو فوری طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کا حکم دیتے ہیں جس کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں بیان کہ جائیں گی۔

صدیق الفاروق کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ متروکہ وقف املاک کے تمام معاملات جوڈیشل نوعیت کے ہیں۔ ماضی میں غلطیاں ہوتی رہیں اب نہیں ہوں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ یہ سیاسی اقرباء پروری کا کیس ہے۔ جہانگیر ترین کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیاسی اقرباء پروری نہیں ہو سکتی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہی وزیراعظم نے مجھے چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ تعینات کیا تھا۔

صدیق الفاروق ایک عرصہ سے مشکلات کا شکار نظر آ رہے تھے اور کٹاس راج مندر کیس کے دوران ان کی کارکردگی کے حوالے سے کئی بار اعتراضات سامنے آئے اور عدالت نے ان کی تعیناتی کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اعتراضات اٹھائے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG