رسائی کے لنکس

logo-print

سانحۂ ساہیوال کے متاثرین کو جوڈیشل انکوائری کی پیشکش


لاہور ہائی کورٹ نے سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو فائرنگ کے وقت گاڑی میں سوار بچوں اور عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے متاثرین کو جوڈیشل کمیشن کے بجائے جوڈیشل انکوائری کرانے کی پیشکش کی ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو سانحۂ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے بتایا کہ سانحۂ ساہیوال کے تمام ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

اس موقع پر بینچ کے رکن جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ ’’پولیس والے ہوا میں لکھتے ہیں کہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن، کاغذ پر کچھ نہیں ہوتا‘‘۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار جلیل کے وکیل بیرسٹر امیر الدین سے استفسار کیا کہ آپ کا کوئی موقعے کا گواہ موجود ہے؟ اس پر بیرسٹر احتشام نے بتایا کہ مقتول خلیل کا بیٹا عمیر خلیل اُن کا اہم گواہ ہے۔

اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ آج ہی عمیر کا بیان ریکارڈ کروائیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت کو مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت سے 48 گھنٹوں میں سانحے پر رپورٹ مانگ لی تھی۔ اگر وزیرِ اعظم رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن بنانے پر غور کیا جائے گا۔

جسٹس صداقت علی خان نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اب تک کن کن گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں؟ ہمیں چشم دید گواہان کے بیانات سے متعلق بتائیں۔

اس پر سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ ابھی تک کسی چشم دید گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے سانحۂ ساہیوال کے متاثرین کو جوڈیشل کمیشن کے بجائے جوڈیشل انکوائری کرانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کہیں تو جوڈیشل انکوائری کا حکم دے سکتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو آپ کیس کا حصہ نہیں بنا سکیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر مجسٹریٹ سے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تو وہ کیس کا حصہ بن سکے گی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی عینی شاہدین کو فون کر کے بلائے اور تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد ساہیوال میں محکمۂ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کی کارروائی میں مارے جانے والے ذیشان کی والدہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انصاف چاہتی ہیں۔

ذیشان کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر اُن کا بیٹا دہشت گرد تھا تو اُسے زندہ کیوں نہیں پکڑا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججوں کا کمیشن بنایا جائے اور اِس واقعے کی جج انکوائری کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو مارنے والے ہیں وہی جے آئی ٹی بنانے والے ہیں، وہ کیا انصاف دیں گے۔ اگر اُنہوں نے انصاف دینا ہوتا تو مارتے ہی نہیں۔

کارروائی میں مارے جانے والے خلیل کے بھائی جلیل نے پہلی مرتبہ اپنا بیان جے آئی ٹی کو قلم بند کرانے کی حامی بھری ہے۔

جلیل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اِس شرط پر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں کہ پنجاب حکومت نے اُنہیں انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جلیل کا کہنا تھا، "اُنہوں نے ہم سے سات دن کا ٹائم مانگا ہے۔ اِس واقعے سے پوری دنیا ہل گئی اور جے آئی ٹی والے کہتے ہیں کہ کوئی عینی شاہد نہیں۔"

محکمۂ انسداد دہشت گردی پنجاب کے اہلکاروں نے گزشتہ ماہ ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں خلیل، ان کی اہلیہ، 13 سالہ بیٹی اور ڈرائیور ذیشان ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ذیشان شدت پسند تنظیم کا رکن تھا۔ لیکن، مقتول کے اہلِ خانہ مسلسل اس الزام کو رد کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاون لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ ترین خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکس پر کلک کریں۔

اینڈرائڈ فون کے لیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG