رسائی کے لنکس

logo-print

سانحۂ ساہیوال کے متاثرین تاحال عدالتی تحقیقات کے منتظر


سانحۂ ساہیوال میں پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

پنجاب کے شہر ساہیوال میں رواں سال جنوری میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد کے لواحقین نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر عید کے بعد احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔

19 جنوری 2019ء کو پنجاب کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہل کاروں نے دہشت گردوں سے تعلق کے شبہے میں ساہیوال کے قریب قومی شاہراہ پر ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں محمد خلیل، ان کی اہلیہ نبیلہ، 13 سالہ بیٹی اریبہ اور ان کا محلے دار ذیشان جاوید موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے محمد خلیل کے اہلِ خانہ سے رواں سال اپریل میں ملاقات کر کے تین کروڑ روپے کا امدادی چیک دیا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطالبے پر عمران خان نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔

لیکن، مقتول محمد خلیل کے بھائی محمد جمیل کہتے ہیں کہ عدالتی تحقیقات کے وزیرِ اعظم کے وعدے کو بھی دو ماہ گزر چکے ہیں اور پنجاب حکومت مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد جمیل نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کے لیے سرے سے سنجیدہ ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث چند پولیس اہل کاروں کو گرفتار کیا گیا، لیکن بڑے افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں۔

محمد جمیل کے مطابق انہوں نے گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔ ان کے بقول، اگر حکومت نے وعدہ پورا نہ کیا تو عید کے بعد پھر سڑکوں پر نکلیں گے۔

لواحقین کو اب بھی سیکورٹی خطرات لاحق ہیں

ساہیوال واقعے کے مدعی جمیل کے وکیل بیرسٹر احتشام کا کہنا ہے کہ لواحقین کو اب بھی سیکورٹی خطرات لاحق ہیں۔ لہذا، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی ساہیوال سے لاہور منتقلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بیرسٹر احتشام کا کہنا تھا کہ مروجہ طریقۂ کار کے تحت عدالتی تحقیقات کے لیے حکومت عدالت کو خط لکھتی ہے جس کے بعد چیف جسٹس کمیشن تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن، ان کے بقول، حکومت اس معاملے میں شش و پنج کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت کو پابند کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست کرے۔

مقدمہ کہاں تک پہنچا؟

بیرسٹر احتشام نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ساہیوال واقعے میں گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کرنے والے گرفتار پولیس اہل کاروں کا ٹرائل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے چشم دید گواہ جو کہ مقتول خلیل کے بچے ہیں انہیں ہر سماعت پر لاہور سے ساہیوال کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول، یہ درخواست دائر کی گئی ہے کہ مقدمے کو ساہیوال سے لاہور منتقل کیا جائے، تاکہ متاثرین کو سہولت مل سکے۔

ساہیوال واقعہ، کب کیا ہوا؟

محمد خلیل اور اس کا خاندان لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو کا رہائشی تھا۔ 19 جنوری کو یہ خاندان محلے دار ذیشان جاوید کی گاڑی پر پنجاب کے شہر بورے والا میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔

ساہیوال ٹول پلازا کے قریب سی ٹی ڈی کے اہل کاروں نے گاڑی کو روک کر اس پر فائرنگ کر دی جس سے ڈرائیور ذیشان، محمد خلیل اور ان کی بیوی اور بیٹی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

فائرنگ سے گاڑی میں موجود 10 سالہ بچہ عمیر اور سات سالہ بچی منیبہ بھی زخمی ہوئے تھے جب کہ چار سالہ بچی ہادیہ واقعے میں محفوظ رہی تھی۔

واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ واقعے کے عینی شاہد محمد خلیل کے بیٹے عمیر نے ذرائع ابلاغ کو دیے گیے بیان میں کہا تھا کہ اس کے والد نے پولیس والوں کی منت سماجت کی۔ لیکن اس کے باوجود بچوں کے سامنے والدین اور ان کی بہن کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد کئی روز تک یہ سانحہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہا تھا۔ واقعے کے بعد پنجاب کی انسدادِ دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کے متعلقہ حکام کو معطل کر دیا گیا تھا، جب کہ کارروائی میں حصہ لینے والے پولیس اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ابتدا میں سی ٹی ڈی کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ حساس ادارے کی معلومات پر قومی شاہراہ پر ایک مشکوک گاڑی کو روکا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

لیکن، واقعے میں زندہ بچ جانے والے 10 سالہ عمیر نے اسپتال میں بیان دیا تھا کہ پولیس نے گاڑی پر فائرنگ کی۔ بعد ازاں، پنجاب حکومت نے اعتراف کر لیا تھا کہ ساہیوال آپریشن میں خامیاں موجود تھیں۔ ذیشان جاوید کے دہشت گردوں سے روابط تھے، لیکن خلیل کا خاندان بے قصور تھا۔

'لواحقین کے احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی'

حکومتِ پنجاب کا موقف ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس اہل کاروں کا ٹرائل جاری ہے۔ متعدد گواہان کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لواحقین کو احتجاج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ان کے بقول، ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ایک قانونی عمل جاری ہے اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اگر پھر بھی لواحقین عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تو وزیرِ اعظم کے حکم کے مطابق ان کے مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت جلد اس سے متعلق فیصلہ کر لے گی لیکن بشارت راجہ نے اس کا کوئی ٹائم فریم دینے سے گریز کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG