رسائی کے لنکس

logo-print

ساجد بلوچ کی ہلاکت، 'کسی کو ملزم ٹھہرانا قبل از وقت ہے'


(فائل فوٹو)

سوئیڈن میں ہلاک ہونے والے پاکستانی بلوچ صحافی ساجد حسین کے اہل خانہ نے کسی پر شک ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کرے۔

ساجد بلوچ دو مارچ کو اسٹاک ہوم سے لاپتا ہو گئے تھے، جس کے بعد جمعے کو ان کی لاش اپسالہ شہر میں دریا کنارے ملی تھی۔

سوئیڈن میں مقیم ساجد حسین کے قریبی دوست تاج بلوچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کی طرف سے ابھی تک کسی کو ملزم قرار نہیں دیا گیا۔ اور نہ ہی کسی پر شک کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کرے اور لواحقین کو انصاف دلائے۔

تاج بلوچ کے بقول پولیس نے اب تک آٹوپسی رپورٹ کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔ جب تک مکمل رپورٹ نہیں آتی اس وقت تک کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود ان کے اہل خانہ شدید ذہنی صدمے میں ہیں۔ سوئیڈن میں ان کے ساتھی اور پاکستان میں ان کے سابق کولیگز بھی شدید پریشان ہیں۔

'پہلے گولی ماری جاتی تھی، اب گالی دی جاتی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

اس سے قبل سوئیڈن کی پولیس نے ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اسے دو مہینے قبل لاپتا ہونے والے ایک پاکستانی صحافی کی نعش مل گئی ہے۔

ساجد کے لاپتا ہونے پر صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' (آر ایس ایف) نے الزام لگایا تھا کہ ساجد کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اغوا کیا ہے۔ ساجد کی ہلاکت پر تنظیم نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ساجد کے گھر میں ان کی اہلیہ اور دو بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ جو کچھ عرصے بعد ساجد کے پاس سوئیڈن پہنچنے والے تھے۔

ساجد حسین کی عمر 39 سال تھی۔ صحافتی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کے مطابق، انہیں آخری بار دو مارچ کو اسٹاک ہوم کے ایک ریلوے اسٹیشن پر دیکھا گیا تھا جب وہ اپسالا جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہو رہے تھے۔

وہ اپسالا ایک نئے فلیٹ کی چابیاں لینے کے لیے جا رہے تھے۔ لیکن، جب ٹرین اپسالا پہنچی تو وہ اس سے نہیں اترے۔ وہ راستے میں کہاں غائب ہوئے، کوئی نہیں جانتا۔

ساجد جب تک پاکستان میں تھے، وہ صوبہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں لکھتے رہتے تھے۔

ساجد کی اہلیہ شہناز نے میڈیا کو بتایا کہ 2012 میں جب وہ گھر پر نہیں تھے، کچھ لوگوں نے چھاپہ مارا اور ان کا لیپ ٹاپ اور دوسرے کاغذات اٹھا کر لے گئے۔ جس کے بعد ساجد نے پاکستان چھوڑ دیا۔

ساجد بلوچ کی ہلاکت پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق سے وابستہ کارکن افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

امریکی ادارے ایسٹ ویسٹ سنٹر نے صحافی ساجد بلوچ کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ساجد بلوچ 2012 میں ایسٹ ویسٹ سنٹر کے زیر اہتمام امریکہ اور پاکستان کے جرنلسٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ آئے تھے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے ساجد بلوچ ایک کہنہ مشق صحافی تھے۔

ایسٹ ویسٹ سنٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ساجد پاکستان میں اپنے آبائی صوبے بلوچستان سے متعلق مضامین لکھتے تھے۔ اور اُنہیں اپنے کام کے باعث شدید خطرات کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں پاکستان چھوڑ کر جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی یوم صحافت کے موقع پر ساجد کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ وہ مشکل حالات کے باوجود ہم تک معلومات پہنچاتے رہے۔

پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطرناک ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ 2019 کے پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق، 180 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 142 واں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG