رسائی کے لنکس

پرانی گاڑیوں کی خریدو فروخت پر سیلز ٹیکس، صارفین اور ڈیلرز پر بوجھ؟


ایف بی آر کے بیان کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق صرف اُن گاڑیوں پر ہو گا جن کے مالکان ان کو ری کنڈیشن کر کے اُن پر منافع وصول کرتے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ ماہ پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ شاید اس مد میں نئے ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں۔

تاہم ایف بی آر کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق صرف اُن گاڑیوں پر ہو گا جن کے مالکان ان کو ری کنڈیشن کر کے اُن پر منافع وصول کرتے ہیں۔ اس منافع میں سے 17 فی صد سیلز ٹیکس دینا ہو گا۔

ایف بی آر قوانین میں کہا گیا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے دوران رقوم کی منتقلی بھی بینکوں کے ذریعے ہو گی۔

کیا استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس دینا ہوگا؟

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں ایف بی آر نے کہا ہے کہ نیا قانون صرف پرانی گاڑیوں کو ری کنڈیشن کر کے فروخت کرنے پر لاگو ہو گا۔ یہ ٹیکس اسی صورت میں لاگو ہو گا اگر گاڑی کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے تحت پرانی گاڑیوں کی مکمل قیمتِ خرید کی بجائے صرف منافع پر سترہ فی صد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

ایف بی آر کے مطابق یہ ٹیکس صرف ان افراد پر عائد ہو گا جو استعمال شدہ گاڑیوں کی قدر بڑھا کر انہیں زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ جس سے ری کنڈیشن گاڑیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہو سکیں گی۔

ایف بی آر کے مطابق اگر استعمال شدہ گاڑی کی فروخت پر نقصان ہوتا ہے تو یہ ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت تمام گاڑیوں کی خریدو فروخت کے لیے رقوم کی منتقلی بینکوں کے ذریعے ہو گی تا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے۔

نئے قانون کا عام آدمی پر اثر

مالیاتی اُمور کے ماہر اور پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات شہباز صدیق نے نئے ٹیکس کے بارے میں بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے فنانس بل 2020 کے تحت نیا ٹیکس بنیادی طور پر گاڑیوں کے کاروبار کرنے والے افراد (ڈیلروں) پر لگایا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز صدیق نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے واضح کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکس ڈیلر حضرات سے اکٹھا کیا جائے گا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

'عام آدمی 20 فی صد تک زیادہ رقم ادا کرے گا'

مالیاتی اُمور کے ماہر سینئر صحافی اور تجزیہ کار رضوان الرحمٰن رضی کہتے ہیں کہ عام آدمی اگر گاڑی خریدے گا تو وہ یقیناً گاڑی کی قیمت سے 15 سے 20 فی صد زیادہ رقم ادا کرے گا۔

رضوان رضی سمجھتے ہیں کہ حکومت کے ان اقدامات سے اُنہیں لگتا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔

'لاہور کار ڈیلر ایسوسی ایشن' کے صدر شہزادہ سلیم خان سمجھتے ہیں کہ نئے قانون کے تحت گاڑیاں مزید مہنگی ہو جائیں گی جب کہ اُن کا کاروبار بھی متاثر ہو گا۔

اُن کے بقول نئے قانون کے تحت پابند کیا گیا ہے کہ رقوم کی منتقلی بینکوں کے ذریعے کی جائے اور اپنی کمائی میں سے 17 فی صد سیلز ٹیکس کی مد میں سرکار کو دے دیا جائے۔ ہم تو پہلے ہی انکم ٹیکس دے رہے ہیں، مزید ٹیکس تو ڈیلرز پر بوجھ ہو گا۔

رضوان الرحمٰن رضی کہتے ہیں کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق جب کسی بھی شے پر ایک مرتبہ ٹیکس وصول کر لیا جائے تو ٹیکس کے بنیادی قواعد کے مطابق دوبارہ اُسی شے پر ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا۔

'ایک گاڑی پر دو بار ٹیکس ادا ہو گا'

رضوان رضی سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص ایک گاڑی خریدتا ہے اور اُسے وہ شخص جب بھی فروخت کرے گا تو دوبارہ ٹیکس ادا کرے گا۔ حالاں کہ وہ پہلے ہی اس پر سیلز ٹیکس ادا کر چکا ہوتا ہے۔

اُن کے بقول پاکستان میں 99 فی صد لوگ ایسے ہیں جن کی پہلی گاڑی استعمال شدہ ہوتی ہے۔ ایسے صارفین مکمل ادائیگی کر کے اس استعمال شدہ گاڑی کو خرید لیا کرتے تھے۔

لیکن اس قانون کے تحت اُسی استعمال شدہ گاڑی کو خریدنے والے شخص کو بھی اُتنا ہی سیلز ٹیکس دینا پڑے گا جتنا نئی گاڑی کو خریدنے والے نے دیا تھا۔

رضوان رضی کے بقول دنیا بھر میں کہیں پر بھی استعمال شدہ چیزوں پر اُتنا ٹیکس نہیں ہوتا جتنا نئی چیزوں پر ہوتا ہے۔

اُن کے مطابق یہ نیا ٹیکس، بنیادی ٹیکس قواعد کی خلاف ورزی ہے اور اس قانون کے اندر ایک سقم بھی موجود ہے۔ جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں 15 سے 20 فی صد اضافہ ہو گا۔

'ڈیلر گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دیں گے'

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے شہباز صدیق کہتے ہیں کہ جو بھی گاڑی خریدی یا فروخت کی جائے گی اُس کی تمام دستاویزات سرکار نے مانگ لی ہیں۔

شہباز صدیق کے مطابق اگر کوئی بھی کار ڈیلر استعمال شدہ گاڑی خریدتا ہے یا فروخت کرتا ہے تو بینکنگ چینل کے ذریعے رقوم کی منتقلی ہو گی اور اُسے گاڑی کی مکمل رسید (انوائس) بنانا ہو گی اور اس پر وہ 17 فی صد سیلز ٹیکس ادا کرے گا۔

اُن کے بقول مثال کے طور پر اگر ایک کار ڈیلر سیکنڈ ہینڈ کار خریدتا ہے اور بعد ازاں اسے ایک لاکھ منافع پر فروخت کر دیتا ہے تو اس ایک لاکھ میں سے 17 ہزار سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے۔

شہباز صدیق نے کہا کہ ایف بی آر نے وضاحت تو دے دی ہے کہ یہ نیا ٹیکس صرف گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ہے لیکن ڈیلر گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دیں گے اور یہ ٹیکس عام صارف کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔

'حکومت کار ڈیلرز کا کاروبار ختم کرنا چاہتی ہے'

کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر اقبال خان نے نئے ٹیکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کاروں سے منسلک کاروبار ختم کرنا چاہتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ پاکستان میں گزستہ دو سالوں میں گاڑیوں کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اور ٹیکسز کی بھرمار ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں جو گاڑی 20 لاکھ روپے کی تھی اب اُس کی قیمت تقریباً 39 لاکھ روپے ہو چکی ہے اور جو گاڑی 39 لاکھ روپے کی تھی وہ اب 60 لاکھ روپے کے قریب جا پہنچی ہے۔

بینکوں کے ذریعے گاڑیوں کی خرید و فروخت کی رقوم پر منتقلی کے سوال پر کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے نائب صدر نے کہا کہ ایسی صورت میں نقصان ہو گا کیوں کہ جب بھی کوئی شخص اپنے بینک اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے یا اُس سے زیادہ کی رقم منتقل کرتا ہے تو ریونیو کے ادارے اُس شخص سے رقوم کی منتقلی سے متعلق سوال جواب شروع کر دیتے ہیں۔

اقبال خان صاحب کے مطابق لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بینکوں میں اپنا سرمایہ نہیں رکھتی۔

'ہر شخص ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں آ جائے گا'

ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ سلیم سجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہر شخص ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں آ جائے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کار ڈیلر والے یا گاڑی خریدنے والا شخص ایسی صورت میں کچھ رقم بچا لیا کرتا تھا جو کہ اَب مشکل نظر آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس مینوفیکچرنگ یا امپورٹ کے دوران ہی وصول کیا جاتا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑی کس کو فروخت کی؟ ڈیلر کو یہ بتانا ہوگا۔ گاڑی کی فروخت پر 17 فی صد سیلز ٹیکس بھی دینا ہوگا. جب کہ نان فائلر کو اضافی تین فی صد ٹیکس دینا ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے اس اقدام سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ایک اور شرط پوری کی ہے۔ تاکہ تعین ہو سکے کہ پاکستان کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے اصل مالکان کون ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG