رسائی کے لنکس

logo-print

سمنتھا نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کا حلف اٹھا لیا


جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں پاور کو ‘آفاقی حقوق کی ایک بے باک علمبردار‘ اور امریکی خارجہ پالیسی کی ایک سرکردہ دانشور قرار دیا گیا ہے

نائب صدر جو بائیڈن نے سمنتھا پاور سے اقوام متحدہ میں امریکہ کےنئے سفیر کے عہدے کا حلف لے لیا ہے۔

بائیڈن نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کا ایک عکس سماجی میڈیا کے سائٹ، ’ٹوئٹر‘ پر شائع کیا۔ اس تقریب سے ایک ہی روز قبل سینیٹ نے واضح اکثریت سے اُن کی نامزدگی کی منظوری دی تھی، جن کی مخالفت میں 10 اور موافقت میں 87ووٹ پڑے۔

بیالیس برس کی پاور ایک سابق صحافی اور نیشنل سکیورٹی کونسل کی اسٹاف ایکسپرٹ رہ چکی ہیں۔ جمعرات کے روز سینیٹ کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ، رابرٹ مینڈیز نے اُنھیں ’انسانی حقوق کی ایک انتھک علمبردار‘ قرار دیا تھا۔

پاور نے 2003ء میں’پُلٹزر پرائیز‘ جیتا تھا، جسے صحافت کا سب سے بڑا تمغہ خیال کیا جاتا ہے، جو اُن کی اُس کتاب پر دیا گیا تھا جس میں 1990ء کی دہائی میں روانڈا اور بوسنیا میں قتل عام کے معاملوں سمیت انسانی حقوق کے بحرانوں کا ذکر کیا گیا تھا جن میں، اُن کے بقول، امریکہ کی طرف سے زیادہ کام نہیں کیا گیا۔

حال ہی میں شام کی خانہ جنگی میں بیشمار ہلاکتوں کو بند کرانے میں ناکامی پر اُنھوں نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کو ’شرمناک‘ قرار دیا تھا، جسے، اُن کے بقول، ’تاریخ معاف نہیں کرے گی‘۔

جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں پاور کو ‘آفاقی حقوق کی ایک بے باک علمبردار‘ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی ایک سرکردہ دانشور قرار دیا گیا ہے۔

پاور سوزن رائس کی جگہ لیں گی، جو اِس وقت صدر کی قومی سلامتی کی مشیر ہیں۔
XS
SM
MD
LG