رسائی کے لنکس

logo-print

’امریکہ افغان باہمی سلامتی‘ سمجھوتا، دستخط ’بہت جلد‘ متوقع


اُنھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے موجودہ ترقیاتی کام، قومی پیداوار کی شرح افزائش اور سلامتی کے فروغ کو جاری رکھنے میں پُرعزم ہے، اور افغان حکومت کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر رہے گا، جس کا اعلان 2012ء میں ہو چکا ہے

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب، سمنتھا پاور نے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ افغانستان کے مابین باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر ’بہت جلد‘ دستخط ہوجائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ساتھ ہی، نیٹو اور افغانستان کے افواج سے متعلق معاہدے پر بھی دستخط ہوجائیں گے۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کے دِٕن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق مباحثے کے دوران بیان میں کہی۔

یہ مجوزہ سمجھوتے جِن کے بارے میں حالیہ دِنوں ویلز میں منعقدہ نیٹو اجلاس میں حوالہ دیا گیا تھا، اُسے نیٹو کا نیا مشن اور حکومت افغانستان دستخط کریں گے۔

بقول امریکی سفیر، آئندہ چند ماہ کے اندر ہم سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ مل کر ایک قرارداد منظوری کے لیے پیش کریں گے، جس میں اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے موجودہ ترقیاتی کام، قومی پیداوار کی شرح افزائش اور سلامتی کے فروغ کو جاری رکھنے میں پُرعزم ہے، اور افغان حکومت کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر رہے گا، جس کا اعلان 2012ء میں ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان کی ترقی کے لیے امریکی اعانت میں تسلسل جاری رہے گا، جس کی ترجیحات کا تعین وضع ہو چکا ہے۔

سمنتھا پاور نے یاد دلایا کہ کچھ ہی سال قبل تک افغانستان میں انتخابات کرانا ایک اچھوتی تجویز تصور ہوا کرتی تھی، لیکن اب یہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔

اُنھوں نے انتخابی چھان بین کے کام میں اقوام متحدہ کے مشن کی کارکردگی کو سراہا، جو جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کے لیے اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔

XS
SM
MD
LG