رسائی کے لنکس

ہلمند: اہم ضلع سنگین پر ’طالبان کا قبضہ‘


(فائل فوٹو)

گزشتہ سال طالبان نے اس صوبے کے متعدد اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اضافی کمک علاقے میں بھیجی گئی اور افغان فورسز نے اُن علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔

افغان طالبان نے ملک کے جنوبی صوبہ ہلمند کے ایک مرکزی ضلع سنگین پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی طرف سے ضلع پر طالبان کے قبضے کی خبروں کی تردید کی گئی، لیکن مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب سنگین طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے۔

افغانستان کا جنوبی صوبہ ہلمند ملک کے 34 صوبوں میں سب سے بڑا ہے اور اس کی سرحد پاکستان اور ایران سے ملتی ہے۔

گزشتہ سال طالبان نے اس صوبے کے متعدد اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اضافی کمک علاقے میں بھیجی گئی اور افغان فورسز نے اُن علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔

طالبان کی طرف سے گزشتہ سال صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ پر قبضے کے لیے کئی حملے کیے گئے لیکن افغان فورسز شہر کا دفاع کرنے میں کامیاب رہیں۔

گزشتہ ماہ ہی ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ صوبہ ہلمند میں اپنے 300 فوجی تعینات کرے گا تاکہ طالبان کے خلاف برسرپیکار افغان فورسز کی مدد کی جا سکے۔

رواں ہفتے ہی واشنگٹن میں ’اٹلانٹک کونسل‘ تھنک ٹینک میں بات کرتے ہوئے افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا تھا کہ اُن کا ملک طالبان اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ سے مزید فورسز کا متمنی ہے۔

تاحال ٹرمپ انتظامیہ نے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ کیا وہ مزید امریکی فورسز افغانستان بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔

اس وقت تقریباً 8400 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں جو دہشت گردی کے خلاف مقامی فورسز کو تربیت اور معاونت فراہم کرتے ہیں۔

دریں اثنا خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق صوبہ قندوز میں پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایک اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر گولی چلا کر نو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک چوکی میں پیش آیا اور اپنے ساتھیوں کو ہلاک کرنے والا پولیس اہلکار موقع سے فرار ہو گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG