رسائی کے لنکس

logo-print

حملہ آور نے کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا تھا کہ 'وہ کہانی سنا سکیں'


نوجوان حملہ آور دمتریوس

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک اسکول میں فائرنگ کر کے دس افراد کو ہلاک کرنے والے نوجوان کے وکلا کا کہنا ہے کہ جمعہ کو حملے کے وقت بظاہر حواس میں نہیں تھا۔

17 سالہ اس نوجوان کا نام دمتریوس پگورتزس کا نام بتایا گیا ہے اور اس پر قتل کا مقدمہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اس کی فائرنگ سے نو طلبا اور ایک استاد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 13 زخمی ہوئے جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔

ملزم کے والدین نے دو وکلا کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں شامل نکولس پوئل نے خبر رساں ایجنسی 'روئٹرز' کو بتایا کہ انھوں نے جمعہ اور ہفتہ کو دمتریوس سے ملاقات کی۔

وکیل نے کہا کہ ملزم بہت زیادہ جذباتی اور کبھی حیران کن حد تک غیر جذباتی ہو جاتا ہے۔ "وہ اپنے فعل کے کچھ پہلووں سے واقف ہے اور کچھ کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ اسے علم نہیں۔"

عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ ملزم نے فائرنگ سے قبل ان لوگوں کو چھوڑ دیا تھا جنہیں وہ پسند کرتا تھا تاکہ وہ دوسروں کو اس کی کہانی سنا سکیں۔ لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ اس فائرنگ کے محرکات کیا تھے۔

تفتیش کاروں نے دمتریوس کے فیس بک پر اسے ایک ٹی شرٹ پہنے دیکھا جس پر "بورن ٹو کل" درج ہے۔

جمعہ کی پیش آنے والے اس مہلک واقعے کے بعد ہفتہ کو اسکول کے طلبا اور دیگر عملے کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں واپس اسکول میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تا کہ وہ یہاں رہ جانے والی اپنی اشیا سمیٹ سکیں۔

علاقے کے تمام اسکولوں کو پیر اور منگل کو بھی بند رکھنے کا بتایا گیا ہے۔

سانتا فے اسکول میں فائرنگ کا یہ واقعہ امریکی حالیہ تاریخ کا اس نوعیت کا چوتھا مہلک واقعہ تھا۔

اس سے قبل رواں سال فروری میں فلوریڈا کی درس گاہ میں نوجوان کی فائرنگ سے 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG