رسائی کے لنکس

پاکستان میں قید بھارتی جاسوس سربجیت کی بہن پاکستان میں


واگہ بارڈر

پاکستان میں جاسوسی ، دہشت گردی اور بم دھماکوں کے الزام میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور بھائی سے ملاقات کے لیے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئی ہے ۔ واہگہ بارڈر پر دلبیر کور کا استقبال سربجیت کے وکیل شیخ اویس اکرام نے کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دلبیر کور نے کہا کہ وہ پاکستان سرکار کی شکر گزار ہیں کہ اس نے بھائی سے ملاقات کرنے کے لیے ویزا فراہم کیا ۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاکستانی سرکار میری اپیل قبول کرتے ہوئے میرے بھائی کی باقی سزا معاف کردے گی۔

اس سے قبل اتوار کو ایک بھارتی ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت پاکستان نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سزائے موت کے منتظر بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کی رہائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام سے رابطہ کرکے بتایا کہ مختلف بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث سربجیت سنگھ کے بعض عزیز و اقارب بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو دیت دینے کیلئے تیار ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے اس حوالے سے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے۔

بھارتی حکام نے اس بارے میں سر بجیت سنگھ کی بہن کو بھی مطلع کردیا ہے۔ لاہور میں سربجیت سنگھ کے وکیل رانا عبدالحمید نے اس حوالے سے بتایا کہ سربجیت سنگھ کی رہائی کا معاملہ صدر پاکستان کے پاس ہے، وہ جب چاہیں سربجیت سنگھ کو معاف اور اسے رہا کرسکتے ہیں۔

سربجیت سنگھ 1990 میں لاہور اور ملتان میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا مجرم پایا گیا تھا۔ سربجیت سنگھ حکومت پاکستان کے مطابق منجیت سنگھ ہے اور لاہور اور ملتان میں کئی بم دھماکوں میں 14 افراد کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اسے 1991 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مختلف گواہوں کے بیانات کی روشنی میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ سربجیت سنگھ نے خود بھی اس کا اعتراف کیا تھا کہ وہ من جیت سنگھ ہے اور ”را“ کیلئے کام کرتا ہے تاہم بعد میں وہ اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔ سربجیت سنگھ کے وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ْاس منجیت سنگھ کا سراغ لگا لیا ہے جس کے شبے میں سربجیت سنگھ گرفتار ہیں۔

مبصرین اور عدالتی طریقہ کار سے واقف کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اگر سربجیت سنگھ کی سزا عمر قید میں بھی تبدیل کردی گئی تو انہیں فوری رہائی مل جائے گی کیونکہ وہ پہلے ہی چھبیس برس کی قید کاٹ چکے ہیں۔

کچھ مبصرین اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے افراد کا کہنا ے دلبیر سنگھ کی پاکستان آمد میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے لئے گرما گرم بحث مباحثے کا موضوع بن جائے گی۔ اس بحث کا آغاز منگل کے روز ان کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس سے ہوگا۔ اس حوالے سے چند مذہبی جماعتیں خاص کر مذہبی نظریات رکھنے والی جماعتیں کسی طور بھی سربجیت سنگھ کو معاف کئے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ سربجیت سنگھ کا کیس 2008 ء میں منظر عام پر آیا تھا اور اس وقت بھی یہی حال تھا کہ یہ جماعتیں کھل کر سربجیت سنگھ کی معافی کے سخت خلاف تھیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر سنگھ جیسے بھارتی جاسوس کو پہلے ہیں آزاد کرکے کیا پاسکا ہے کہ اب سربجیت کو بھی عزت کے ساتھ واپس کردیا جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وہ فورمز جو پاکستان و بھارت کے درمیان دوستی کے رشتے استوار کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں وہ بھی اپنے موقف کی تائید میں کھل کر میدان میں اتریں گی یوں یہ موضوع ایک مرتبہ پھر زور پکڑ جائے گا۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں ہوں گی تو دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور تیسری جانب پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے کوشاں ادارے۔ سب سے بڑھ کر میڈیا میں جو بحث وتکرار موقع ہے وہ دیدنی ہوگی۔ گویا اس حوالے سے آئندہ چند روز اہم ہیں۔

XS
SM
MD
LG