رسائی کے لنکس

انگریزی نہیں آتی تو شرمائیں مت، حمزہ عباسی کا سرفراز کو مشورہ


فیس بک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ’’جو لوگ سرفراز کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ غلامانہ سوچ رکھتے ہیں۔ انہیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے‘‘

حمزہ علی عباسی پاکستانی ڈراموں اور شو بزنس کا جانا پہچانا نام ہیں۔ حمزہ شو بزنس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی خاصے متحرک رہتے ہیں اور مختلف سیاسی اور غیر سیاسی ملکی مسائل پر ان کا رد عمل سامنے آتا رہتا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے ہی انہوں نے پاکستان ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انہیں انگریزی بولنا نہیں آتی تو اس میں شرمانے یا گھبرانے کی کوئی بات ہیں، یہ کام وہ مترجم سے لے سکتے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ، حمزہ علی عباسی نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو سوشل میڈیا پر سرفراز احمد کے انگریزی نہ بول سکنے کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

فیس بک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں حمزہ کا کہنا ہے’’جو لوگ سرفراز کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ غلامانہ سوچ رکھتے ہیں۔ انہیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سرفراز کرکٹر ہیں، کرکٹ کھیلنے انگلینڈ گئے ہیں انگریزی پڑھانے نہیں۔‘‘

حمزہ علی کا یہ ویڈیو پیغام سرفراز احمد کی اس پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا جس میں سری لنکا سے میچ جیتنے کے بعد سرفراز احمد بین الاقوامی میڈیا سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار اور ہچکچاتے ہوئے نظر آئے۔

سرفراز احمد کی گھبراہٹ کو دیکھ کر بعض افراد نے انہیں انگریزی نہ آنے کا طعنہ دیتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا تھا،جس پر حمزہ علی کا رد عمل ویڈیو پیغام کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

حمزہ علی عباسی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ان کھلاڑیوں، خاص کر سرفراز احمد کو جنہیں انگریزی نہیں آتی اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ’’جو لوگ سرفراز کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ خدا کا خوف کھائیں، اپنی غلامانہ ذہنیت سے باہر نکل آئیں۔ ضروری تو نہیں کہ پاکستان میں ہر شخص انگریزی بولے۔ انگریزی ہماری اولین یا ترجیحی زبان نہیں۔‘‘

حمزہ کا کہنا ہے کہ’’ اگر ہمیں تنقید کرنی ہی ہے تو ان کے کھیل پر کریں نہ کہ انگریزی پر۔ چین میں 90فیصد لوگ انگریزی نہیں بولتے۔ جاپان، فرانس اور روس میں بھی انگریزی نہیں بولی جاتی، جبکہ یہ ممالک پوری دنیا میں نمایاں ہیں۔ انگریزی نہ آنا احساس کمتری کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے ’’سرفراز یا ٹیم کو میری طرف سے پیغام دیا جائے انگریزی نہ آنا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسی فیصد پاکستانیوں کو انگریزی نہیں آتی۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک کے اسی فیصد لوگ بھی انگریزی نہیں بولتے۔‘‘

پیغام کے آخر میں انہوں نے ٹیم کو یہ مشورہ بھی دیا کہ بین الاقوامی صحافیوں سے بات چیت یا پریس کانفرنس کے وقت مترجم کو ساتھ رکھا جاسکتا ہے جو دونوں کے درمیان رابطہ کا سبب بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG