رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان پر پاکستان و امریکہ کی سوچ 'یکساں' ہے: سرتاج عزیز


مشیر امور خارجہ نے کہا کہ 'آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان امن عمل کے حوالے سے امریکہ نے کوئی مطالبہ کیا ہے۔ دراصل، اِس پر دونوں فریق کے درمیان اتفاقِ رائے ہے کہ جنگ افغانستان کا حل نہیں، اور اِس طرح تو یہ مسئلہ برسہا برس تک الجھا رہے گا'

پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر، سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ 'افغانستان کے معاملے پر پاکستان و امریکہ کی سوچ یکساں ہے'۔

بقول اُن کے، 'ہم دونوں اِس بات کے خواہاں ہیں کہ وہاں امن کا بول بالا ہو۔ دونوں اِس خیال کے ہیں کہ مکالمہ ضروری ہے اور یہ کہ سرحد پر نظرداری لازم ہے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں جِس کے لیےصرف امریکہ پُرجوش دکھائی دے، بلکہ یہ ایسی بات ہے جو ہم خود بھی چاہتے ہیں'۔

جمعے کو 'وائس آف امریکہ' کی 'ڈیوا سروس' کے نمائندے، افتخار مغل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ 'آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان امن عمل کے حوالے سے امریکہ نے کوئی مطالبہ کیا ہے۔ دراصل، اِس پر دونوں فریق کے درمیان اتفاقِ رائے ہے کہ جنگ افغانستان کا حل نہیں، اور اِس طرح تو یہ مسئلہ برسہا برس تک الجھا رہے گا'۔

بقول اُن کے، 'دونوں فریق سمجتے ہیں کہ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے مذاکرات سے ہی سیاسی تصفیہ ہو سکتا ہے۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اگر حکومتِ افغانستان امن عمل کو آگے بڑھانے کی خواہاں ہو تو ہم افغان سرپرستی اور قیادت والے اس عمل کے حوالے سے سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر تیار ہیں'۔

ایک سوال پر، خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ 'پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے'۔

بقول سرتاج عزیز، 'موجودہ صورتِ حال میں سکیورٹی کے تمام معاملات پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور فوجی قیادت کی سوچ یکساں ہے۔ افغانستان پر بھی سویلین اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف رائے نہیں، اور دونوں مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے کوئی ایسا ذمہ نہیں لیا جس پر عمل نہ ہو سکے'۔

وزیر اعظم نواز شریف کے سہ روزہ سرکاری دورہ امریکہ کے بارے میں ایک سوال پر، سرتاج عزیز نے کہا کہ 'یہ ایک کامیاب دورہ تھا، کونکہ ہم نے اُن تعلقات کے مزید فروغ کو سامنے رکھا ہے جس ضمن میں گذشتہ دو برس کے دوران خاصی پیش رفت ہوچکی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان نے امریکی تشویش کو مدِ نظر رکھا جب کہ امریکہ نے ہماری تشویش کو اہمیت دی'۔

بقول اُن کے، 'امریکہ کو حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور جوہری معاملات پر تشویش تھی، جب کہ ہمیں بھارت کے مخاصمانہ رویے، لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور بھارت کو امریکی اسلحے کی فروخت پر تشویش تھی'۔

جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ 'اگر آپ اِس پر نظر ڈالیں تو امریکہ نے ہماری تشویش کے تمام اہم معاملات پر دھیان دینے پر اتفاق کیا۔۔۔ اِن میں، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی ضرورت پر رضامند ہونا، اور پاک بھارت ڈائلاگ کی بحالی کی ضرورت سے اتفاق کرنا۔۔۔ شامل ہے۔'

سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ 'اس دورے سے کثیر جہتی اور کثیر شعبہ جاتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا پیغام ملتا ہے۔ اس سے پیشتر، باہمی تعلقات کی نوعیت سکیورٹی کے معاملات تک محدود تھی۔ تاہم، اب یہ تجارت اور کاروبار کے میدان تک وسیع ہوچکے ہیں'۔

ادھر، افغان امن عمل کے بارے میں، اوباما انتظامیہ کے ایک اہل کار نے 'ڈیوا سروس' کو بتایا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک سمیت طالبان پر پاکستانی دبائو طالبان قیادت کو مجبور کرسکتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنی عکسری مہم جوئی کی استعداد پر سوالیہ نشان ڈالین۔ پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے، جس کردار کو جاری کرنے کے لیے صدر غنی بارہا اعادہ کرچکے ہیں'۔

XS
SM
MD
LG