رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں فلموں کی نمائش پر عائد پابندی ختم ہو جائے گی


فائل فوٹو

سینما کی بحالی اس جانب اشارہ ہے کہ سعودی عرب میں نظریات کی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انٹرٹینمنٹ کو اب اصلاحات کے منصوبے جس کا نام’ ویژن 2030‘ رکھا گیا ہے اس کے حصے کے طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب جدید ٹیکنالوجی سے لیس نئے شہر’نیوم‘کی تعمیر سے لے کرخواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے تک کی تمام اصلاحات اور اقدامات کے سبب ان دنوں شہ سرخیوں میں ہے۔۔۔اور اب یوں لگتا ہے جیسے ملک میں سینما انڈسٹری بھی جلد بحال ہو جائے گی۔

انڈسٹری کی بحالی کی امید اس فلم شو نے جگائی ہے جو دارالحکومت میں دو ہفتے پہلے ہوا۔ فلم کے اس نائٹ شو کو سعودی شہریوں نے ’تازہ ہوا کا جھونکا ‘قرار دیا کیونکہ سعودی عرب میں سن 1980ء سے فلموں کی نمائش پر پابندی عائد ہے۔

میڈیکل کے ایک طالب علم سلطان نے فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں توقع ظاہرکی کہ جلد ہی سینما پر عائد پابندی ختم ہو جائے گی اور سعودی شہری بھی سینما کی جدید ترین سہولتوں کے بھرپور مزے کے ساتھ فلموں سے لطف اندوز ہو سکیں گے ۔‘

ریاض کے کنگ فہد کلچرل سینٹرمیں شائقین سے کچھا کھچ بھرے ہال میں دکھائی جانے والی تین شارٹ فلموں میں سے ایک ’نیشنل ڈائیلاگ‘ کے ڈائریکٹر فیصل الحربی نے کہا کہ لوگ سینما کے پردے پر اپنی حقیقی زندگی کا عکس دیکھنا چاہتے ہیں اور سینما لوگوں کو زندگی کی حقیقتیں ہی دکھاتا ہے۔‘

نائٹ شو دیکھنے کے لئے خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان کے لئے ہال کے اندر مردوں سے الگ بیٹھ کر فلم دیکھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔



نظریات کی تبدیلی
سینما کی بحالی اس جانب اشارہ ہے کہ سعودی عرب میں نظریات کی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انٹرٹینمنٹ کو اب اصلاحات کے منصوبے جس کا نام’ ویژن 2030‘ رکھا گیا ہے اس کے حصے کے طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے۔

اور یہ سب روایتی خیالات رکھنے والے لوگوں کی مخالفت کے باوجود ہو رہا ہے۔ یہ لوگ سینما کو اپنی ثقافت اور مذہبی شناخت کے لئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہی نظریات کی بنیاد پر 1980 کے عشرے میں سینما بند کردئیے گئے تھے۔

کچھ لوگ سعودی عرب میں اصلاحاتی مہم کو ’تیز رفتار بس‘ سے تشبیہہ دیتے ہیں جس میں یا تو لوگ سوار ہو جائیں گے یا پھر پیچھے رہ جائیں گے۔

سعودی عرب میں حالیہ مہینوں میں کنسرٹس، کامک کون پوپ فیسٹیول اور قومی دن کی تقریبات منعقد کی گئیں جس میں پہلی مرتبہ لوگ موسیقی کی دھن پر سڑکوں پر ناچتے دکھائی دئیے۔

سعودی فلمیں بیرون ملک ہلچل مچا چکی ہیں۔ ان فلموں کو دنیا تک پہنچانے کے مختلف ڈسٹری بیوشن چینلز اور انٹرنیٹ کا سہارا لیا گیا۔

سعودی عرب کی خاتون ڈائریکٹر حائفہ ال منصور کی فلم ’وادجا‘نے 2013 میں اکیڈمی ایوارڈ یعنی آسکر ایوارڈ میں پہلی سعودی فلم کے طور پر اینٹری دے کر نئی تاریخ رقم کی۔

فلم کی کہانی دس سالہ لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو اپنے ہم عمر لڑکوں کی طرح ایک سائیکل لینے کے خواب دیکھتی ہے۔ رواں سال آسکرز میں ایک بار پھر فلم برکھا میٹس برکھا ‘نے سعودی عرب کی نمائندگی کی۔

یہ سعودی عرب کی پہلی رومینٹک کامیڈی فلم ہے جس کا پریمئیر برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا۔ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ہشام فاغی کا کہنا تھا ’سینما کے بغیر ملک کا آرٹسٹک ٹیلنٹ ضائع ہو جائے گا۔‘

سعودی حکومت نے اب تک سینما سے پابندی ختم کرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’سینماز اوپننگ ان ریاض‘ کا ٹرینڈ مقبول ہو رہا ہے اور ایسی تصاویر اپ لوڈ کی جارہی ہیں جس میں لوگوں کو سینما ٹکٹ بک کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سعودی ہر سال بحرین اور دبئی جا کر فلمیں دیکھنے اور ان کے تفریحی مقامات اور پارکوں کی سیر پر اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں۔

سی تھری فلمز اور ٹیلی فاز 11 کے شریک بانی علی کلتھامی کا کہنا ہے ’سینما سے لوگوں کو سیکھنے کو ملتا ہے۔‘

علی کی فلم ’وساتی‘ سچے واقعہ پر مبنی ہے جس میں نوے کے عشرے میں ایک روایت پسند گروپ سعودی یونیورسٹی میں دکھائے جانے والے ایک ڈرامے پر دھاوا بول دیتا ہے۔

اگر ’نیشنل ڈائیلاگ‘ کی بات کریں تو اس فلم میں صحیح ساتھی کے انتخاب کے لئے سعودی نوجوانوں کی کشمکش کو اجاگر کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG