رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کی پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت


فائل فوٹو

سعودی عرب نے فرانس کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت اور اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذمت کی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ آزادیٔ اظہار، ثقافت کا احترام، رواداری اور امن کو ایک دائرے میں رہنا چاہیے۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برداشت اور امن کا دامن چھوڑنے سے نفرتیں جنم لیتی ہیں جس سے تشدد اور انتہا پسندی بڑھتی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل فرانس میں ایک نوجوان نے تاریخ کے استاد کا سر اس لیے قلم کر دیا تھا کہ انہوں نے لیکچر کے دوران پیغمبرِ اسلام کے خاکے دکھائے تھے۔

استاد کا سر قلم کیے جانے کے خلاف فرانس میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جب کہ ملک کے صدر ایمانوئل میخواں نے مقتول استاد سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

فرانسیسی صدر نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس میں بنیاد پرست مسلمانوں کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر کے بیان اور پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان نے بھی ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت سے فوری طور پر فرانس سے اپنا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں فرانسیسی سپر مارکیٹ چین 'کار فور' کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر مقبول ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پیر کو سعودی دارالحکومت ریاض میں فرانسیسی سپر مارکیٹ چین کا دورہ کیا گیا تو وہاں معمول کے مطابق لوگ خریداری میں مصروف تھے۔

دوسری جانب 'کار فور' کے فرانس میں نمائندے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا اب تک کوئی اثر محسوس نہیں ہوا ہے۔

سعودی عرب کے پڑوسی ملک کویت کی بعض سپر مارکیٹس نے کارپوریٹ یونینز کی ہدایات کے بعد فرانسیسی مصنوعات شیلفس سے اٹھا لی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کر کے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے حکام نے فرانسیسی سفیر سے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور اسلام کی اقدار کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی چاہے توہین کرنے والا شخص کسی بھی عہدے پر براجمان کیوں نہ ہو۔

نیٹو کے رکن ممالک آمنے سامنے

فرانس اور ترکی دونوں ہی یورپی ملکوں کے فوجی اتحاد 'نیٹو' کا حصہ ہیں۔ حالیہ چند ماہ کے دوران دونوں ملکوں میں شام، لیبیا اور ناگورنو کاراباخ کے تنازع پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ایمانوئل میخواں کے اسلام مخالف ایجنڈے کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

ترک صدر نے پیر کو ایک مرتبہ پھر فرانسیسی صدر پر تنقید کرتے ہوئے اُنہیں دماغ کا علاج کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ بعدازاں فرانس نے رجب طیب ایردوان کے بیان کے بعد انقرہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG