رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب: شاہی خاندان کے تین سینئر ارکان زیرِ حراست


شہزادہ محمد بن نائف (فائل فوٹو)

سعودی عرب کی حکومت نے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی سمیت شاہی خاندان کے تین سینئر اراکین کو حراست میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں بادشاہ کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور بھتیجے محمد بن نائف بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو جمعے کو حراست میں لیا گیا۔

امریکی جریدے 'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق ان افراد کو بغاوت کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا۔

سعودی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

محمد بن سلمان کے احکامات پر 2017 میں شاہی خاندان کے متعدد وزرا، کاروباری شخصیات اور اراکین کو گرفتار کر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اُن میں ولی عہد محمد بن نائف بھی شامل تھے، جو اُس وقت وزیر داخلہ کے منصب پر بھی فائز تھے۔ لیکن اُنہیں ہٹا کر محمد بن سلمان خود ولی عہد بن گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق محمد بن سلمان کی بعض پالیسیوں کے باعث شاہی محل میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد اُن کے طرز حکمرانی پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔

محمد بن سلمان، بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف (فائل فوٹو)
محمد بن سلمان، بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف (فائل فوٹو)

امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہی خاندان کے کچھ افراد احمد بن عبدالعزیز کو بادشاہ کا جانشین بنانا چاہتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ 84 سالہ بادشاہ کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت نہیں کریں گے۔ سعودی بادشاہ نے اپنے بیشتر اختیارات ولی عہد محمد بن سلمان کو تفویض کر رکھے ہیں۔ البتہ وہ خود بھی حکومتی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔

محمد بن سلمان نے 2016 سے سعودی عرب میں معاشی اور سماجی اصلاحات کا آغاز کر رکھا ہے۔ جن میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے سمیت بعض دیگر اقدامات شامل ہیں۔

سعودی حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ تیل کے علاوہ سیاحت سمیت دیگر ذرائع پر بھی اپنا انحصار بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن سعودی ولی عہد کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG