رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں حوثی باغیوں پر سعودی عرب کے فضائی حملے


وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی انٹیلی جنس معلومات اور سازو سامان کی فراہمی سے مدد کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف بدھ کو فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا اور جمعرات کو بھی مختلف اہداف پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ کارروائی بین الاقوامی حمایت یافتہ یمنی صدر عبد الربو منصور ہادی کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔

اردن اور مصر نے تصدیق کی ہے کہ ان کی فورسز بھی اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوڈان، مراکش اور پاکستان نے بھی اس میں شرکت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

العریبیہ نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس آپریشن میں اپنے ڈیڑھ لاکھ فوجی اور ایک سو لڑاکا طیارے استعمال کرے گا۔

ایران، جو کہ سعودی عرب کا حریف ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ وہ حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے، نے ان فضائی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائی ایک "مداخلت" ہے جو یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس کارروائی کو یمن کے خلاف "جارحیت" قرار دیا۔ ایران شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کا حامی رہا ہے۔

جمعرات کو کی گئی فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صدر ہادی منصور کی وفادار فورسز نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا جس پر بدھ کو حوثیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

حکام کے مطابق جمعرات کو لڑاکا طیاروں نے حوثی باغیوں کی طرف سے فضائی حملوں کی صلاحیت کو ختم کرنے کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

حکام کا کہنا ہے صدر منصور ہادی عدن سے کہیں نامعلوم مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ملک یمن کے عوام اور "اس کی قانونی حکومت" کے تحفظ کے لیے "تمام ضروری" اقدام کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی انٹیلی جنس معلومات اور سازو سامان کی فراہمی سے مدد کر رہا ہے لیکن خود براہ راست فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان برنڈیٹ میہان نے ایک بیان میں حوثیوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنی کارروائیاں ختم کر کے سیاسی مذاکراتی عمل میں واپس آئیں۔

"بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر ذرائع سے بڑے واضح انداز میں کہہ چکی ہے ایک مسلح فرقے کی طرف سے یمن پر تشدد کے ذریعے قبضہ قابل قبول نہیں اور قانونی و سیاسی طریقے سے انتقال اقتدار صرف سیاسی مذاکرات اور تمام فریقین کی شمولیت پر مبنی حکومت کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔"

2012ء میں ایک تحریک کے نتیجے میں صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا جس کے بعد سے یہ ملک تشدد اور بدامنی میں گھرا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG