رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں قید 579 پاکستانی قیدی رہا


فائل فوٹو

سعودی عرب کی جیلوں میں قید 579 پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رہائی پانے والے پاکستانی ان قیدیوں میں شامل تھے جنہیں سعودی حکومت نے معافی دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بات سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے ایک ذیلی ادارے کے عہدے دار نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کے اجلاس کے دوران ظاہر کی ہے۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وزیرِ اعظم عمران خان عنقریب سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔

سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سربراہ اور مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی شیخ فیاض الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کو رہا کیا گیا ہے وہ چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ تین ہزار سے زائد پاکستانیوں کو سعودی عرب سے پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ یہ وہ افراد تھے جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

شیخ فیاض الدین کے بقول سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے رواں سال فروری میں دورۂ پاکستان کے دوران سعودی عرب میں قید دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا تھا۔

ان کے بقول پارلیمانی کمیٹی نے متعلقہ عہدے داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کمیٹی کو آگاہ کریں کہ سعودی عرب میں قید باقی پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایک سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سعودی عرب میں اس وقت تین ہزار سے زائد پاکستانی قید ہیں۔ ان افراد پر منشیات کی اسمگلنگ، جنسی زیادتی اور دھوکہ دہی کے الزامات ہیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل ضیاء احمد اعوان کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے بیرون ملک نقل مکانی کے عمل کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں بیرونی ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد خلیجی ملکوں بالخصوص سعودی عرب میں کام کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG