رسائی کے لنکس

قطر کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات بدستور معطل ہیں: سعودی عرب


سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان۔ فائل فوٹو

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے قطر کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات معطل کر دیے ہیں اور اس کی وجہ ریاض کے بقول دوحہ کی طرف سے مبینہ طور پر "حقائق کو مسخ" کرنا بتائی گئی ہے۔

جمعہ کو یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ سعودی اور قطری راہنماوں کے درمیان فون پر بات ہوئی اور دونوں نے مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن اس کے چند گھنٹوں بعد ہی سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سعودی پریس ایجنسی' نے قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی فون کال کی خبروں کو "سچائی کے برعکس" قرار دیا۔

قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی۔ فائل فوٹو
قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی۔ فائل فوٹو

قطری ذرائع نے کہا تھا کہ دونوں راہنماوں نے فون پر بات کرتے ہوئے قطر اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے نمائندے مقرر کرنے پر اتفاق کیا تاکہ معاملات بیٹھ کر حل کیے جا سکیں۔

قطر چاہتا ہے کہ وہ سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات سے بات چیت کرے جنہوں نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ جون میں دوحہ سے تعلقات منقطع کر دیے تھے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔

قطر ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب قطر کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات اور رابطے اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک دوحہ کھلے عام اپنی پالیسی کی وضاحت نہیں کر دیتا۔"

جمعہ کو ہی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو فون کیے۔ ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ قطر اور اس کے ہمسایوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG