رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی خواتین کو فوج میں شمولیت اختیار کرنے کی اجازت


سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سعودی عرب کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ خواتین شہری بھی فوج میں شمولیت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتصادی اور سماجی ویژن کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں ان بھرتیوں کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت خواتین سعودی رائل آرمی، رائل ایئر فورس، نیوی، ایئر ڈیفنس اور فوج کے شعبہ میڈیکل میں سپاہی، کارپورل، ڈپٹی سارجنٹ اور سارجنٹ کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دے سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی فوج یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ جب کہ اس کے ایران کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔

گزشتہ سال سعودی خواتین کو وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے ادارے انسداد منشیات، کرمنل انویسٹی گیشن، کسٹمز میں بھرتی کیا گیا تھا۔ تاہم اب اُنہیں باضابطہ طور پر فوج میں شامل ہونے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے ویژن 2030 کا اعلان کر رکھا ہے۔ جس کا مقصد سعودی عرب کا روشن خیال تشخص اجاگر کرنا ہے۔

چند روز قبل سعودی حکومت نے غیر ملکی جوڑوں کو ایک ساتھ ہوٹل کے کمروں میں قیام کی بھی اجازت دی تھی۔ جب کہ اس سے قبل خواتین کو ڈرائیونگ اور محرم کے بغیر غیر ملکی سفر کرنے کی بھی اجازت دی جا چکی ہے۔

سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔
سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

قدامت پسند سعودی معاشرے میں یہ تبدیلیاں ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور سماجی ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہیں جسے مغربی ممالک کی جانب سے پذیرائی ملتی رہی ہے۔

سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تاہم اب حکومت قومی آمدنی کا انحصار سیاحت پر بھی کر رہی ہے۔

دو سال قبل حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے اور بغیر محرم کے دیگر ممالک کا سفر کرنے کی اجازت پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی تھی۔

حکومت کی جانب سے جدہ سمیت مختلف شہروں میں سنیما گھر کھولنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG