رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب نے سلامتی کونسل کی رکنیت ٹھکرادی


وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اُس وقت تک 15 رکنی سلامتی کونسل کا حصہ نہیں بنے گا جب تک وہ اصلاحات نہیں کی جاتیں جو اس تنظیم کو ’’عالمی امن و سلامتی کا تحفظ‘‘ کرنے کے قابل بنائیں۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کو یہ کہہ کر رد دیا ہے کہ دہرے معیار کی وجہ سے اس تنظیم کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ سعودی عرب اُس وقت تک 15 رکنی سلامتی کونسل کا حصہ نہیں بنے گا جب تک وہ اصلاحات نہیں کی جاتیں جو اس تنظیم کو امن و سلامتی کا تحفظ کرنے کے قابل بنائیں۔ وزارتِ خارجہ نے مجوزہ اصلاحات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

سعودی عرب ماضی میں کونسل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے جس کی وجہ ایسی قرار دادوں کو منظور کرنے میں ناکامی تھی جن کے تحت شام میں ڈھائی برس سے جاری خون ریز خانہ جنگی میں کردار پر صدر بشار الاسد کو سزا دی جا سکے۔

سلامتی کونسل کے مستقل اراکین روس اور چین نے ایسی قرار دادوں کو تین موقعوں پر ویٹو کر دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس سلامتی کونسل کے وہ دیگر تین اراکین ہیں جو کسی قرار داد کو و یٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ بقیہ اراکین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو سالہ رکنیت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب اُن باغیوں کی حمایت کر رہا ہے جو مسٹر اسد کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG