رسائی کے لنکس

سعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے ملاقات، ہتھیاروں کی خریداری سمیت اہم امور پر گفتگو


سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، ایسے میں جب سعودی عرب اور ایران کے درمیان شدید تناؤ جاری ہے۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں ولی عہد محمد کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایران دنیا کے اُس خطے، یا دنیا کے ساتھ مناسب طریقے سے پیش نہیں آ رہا ہے۔ ایران میں بہت سی خراب باتیں ہو رہی ہیں‘‘۔

مشرق وسطیٰ میں داعش کی مثال دیتے ہوئے، جس کا تقریباً صفایا ہوچکا ہے، صدر نے اعلان کیا کہ امریکہ کی فوج ’’کچھ علاقوں سے واپس بلائی جائے گی، جہاں ایک طویل عرصے سے ہم انخلا کے کوشاں رہے ہیں‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’دوسرے ملک معاملے کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایسا مرحلہ آگیا ہے جب وہ اس معاملے سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں‘‘۔

اپنے کلمات میں، ولی عہد نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہاں موجود ہیں۔ یقینی طور پر ہم نے تمام مواقع کے حصول سے متعلق امور پر گفت و شنید کی ہے اور اُن خطرات پر بات کی ہے جو امریکہ، سعودی عرب اور ’’پوری دنیا‘‘ کو لاحق ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی کے معاملے کو امریکہ کسی طور پر برداشت نہیں کرتا‘‘۔ اُنھوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ اس ضمن میں سعودی عرب ٹھوس کوششیں کر رہا ہے۔ ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے ’’کچھ دیگر ملک بھی‘‘ ایسا کر رہے ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے اُن کا نام نہیں لیا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ’’ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔

صدر نے کہا کہ ’’دہشت گردوں کو رقوم میسر آنے کا معاملہ بند ہو چکا ہے‘‘۔

سعودی عرب کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کی دیگر دو ریاستوں سمیت، مصر بھی قطر کے ساتھ جھگڑتا رہا ہے۔ وہ سلطنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسلامی دہشت گردی کو فنڈ فراہم کرتا ہے۔ دریں اثنا، سعودی عرب کے ناقدین نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ایک طویل عرصے سے سعودی عرب اسلام کے قدامت پسند سلفی سلسلے کو پھیلا رہا ہے، جو اکثر پُرتشدد انتہا پسندی سے وابستہ رہا ہے۔

سعودی عرب کو سراہتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’’اسلحے اور کئی چیزوں کا بڑا خریدار ہے‘‘، جس کے باعث ’’سیکڑوں ارب ڈالر امریکہ آ رہے ہیں‘‘۔

اوول آفس کی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے پوسٹر پڑھ کر تفصیل بتائی کہ سعودی عرب کی سلطنت کو کیا دفاعی اسلحہ فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے لیے صدر نے کہا کہ اس کے باعث ’’امریکہ میں 40000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’عام لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں یہ تعلقات انتہائی، بہت ہی تناؤ کا شکار تھے؛ اور یہ تعلقات شاید کبھی اتنے اچھے نہیں تھے‘‘۔

ٹرمپ نے کھل کر سنی شہنشاہیت کی حمایت کی ہے جس کا شیعہ مسلک والا ایران رقیب ہے۔

بتیس برس کا ولی عہد واشنگٹن میں صدر کی کابینہ کے متعدد ارکان کے ساتھ بھی ملاقات کرنے والا ہے، جن میں کاروبار، دفاع اور خزانے کے وزرا کے علاوہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ اور ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔

سعودی عرب کے سفارت خانے کے مطابق، صدر کے داماد جیرڈ کوشنر، اور وائٹ ہاؤس کے ایلچی برائے مشرق وسطیٰ امن، جیرڈ گرین بلیٹ منگل کی شام ولی عہد محمد کی جانب سے دیے جانے والے عشائیہ میں شرکت کریں گے۔

اس سے قبل، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہل کار نے کہا ہے کہ ملاقات ’’پیش رفت کے حصول‘‘ کے اعتبار سے اور ’’خطے میں ایران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں‘‘ سے متعلق گفتگو کے حوالے سے اس اچھا موقع فراہم کرتی ہے۔

ولی عہد جو ’ایم بی ایس‘ کے نام سے مشہور ہیں، فائدے کے حصول کی تگ و دو میں سرگرداں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG