رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی اتحاد کی یمن میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری


فائل فوٹو

یمن کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ریاض میں جاری اجلاس میں حوثی باغیوں کا نمائندہ شریک نہیں کیونکہ باغی یہ اجلاس سعودی عرب کی بجائے کہیں اور منعقد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد نے اتوار کو پانچ روزہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

اتوار کو دیر گئے جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اتحاد نے جنوبی شہر عدن میں باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

شیعہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد ملک میں حکومت کے خلاف اپنی باغیانہ کارروائیاں شروع کر رکھی تھیں اور عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

مارچ کے اواخر سے سعودی عرب اور اس کے خلیجی اور عرب اتحادیوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں اور گزشتہ منگل کو یہاں پانچ روز کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی گئی تھی۔

اس فائر بندی کا مقصد لوگوں تک امدادی سامان، اشیائے ضروری، ادویات اور طبی امداد پہنچانا تھا۔

ادھر اتوار کو سعودی دارالحکومت ریاض میں یمن کے سیاسی رہنماؤں کا دو روزہ اجلاس شروع ہوگیا جس میں یمن کے تنازع کے سیاسی حل کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں 400 سے زائد یمنی سیاسی رہنما شریک ہیں لیکن حوثی باغیوں کی اس میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

باغیوں نے مطالبہ کر رکھا تھا کہ اس اجلاس کا انعقاد سعودی عرب کی بجائے کسی غیر جانبدار ملک میں کیا جائے۔

باغیوں کے حملوں کی وجہ سے یمن کے صدر منصور ہادی سعودی عرب میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں لڑائی کے دوران 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG