رسائی کے لنکس

سعودی فوجی اتحاد کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی تک محدود ہے: وزیر دفاع


خرم دستگیر

خرم دستگیر نے کہا ہے کہ اس اتحاد کا دائرہٴ کار صرف دہشت گردی کے انسداد میں رکن ممالک کی کوششوں میں معاونت فراہم کرنا، آپس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کرنا ہے

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامی فوجی اتحاد کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی تک محدود ہے اور یہ اتحاد اس دائرہٴ کار سے باہر کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔

وزیر دفاع نے یہ بات پارلیمان کے ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے اس اتحاد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔

خرم دستگیر نے کہا ہے کہ اس اتحاد کا دائرہٴ کار صرف دہشت گردی کے انسداد میں رکن ممالک کی کوششوں میں معاونت فراہم کرنا، آپس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے قواعد و ضوابط ابھی وضع ہونے باقی ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ روایتی فوجی کارروائیاں اس کے دائرہٴ کار میں شامل نہیں ہیں۔

اس اتحاد کی قیادت پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کر رہے ہیں۔ خرم دستگیر نے کہا کہ انہیں اس مقصد کے لیے 'این او سی' رواں سال اپریل میں جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال 30 سے زائد اسلامی ملکوں پر مشتمل فوجی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن، ایران اور مشرق وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک اس اتحاد میں نہیں ہیں۔ اگرچہ ایران اس فوجی اتحاد سے متعلق متعدد بار اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کر چکا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تحزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے دائرہٴ کار سے متعلق پاکستان کی وضاحت کے باوجود ایران کے تحفظات برقرار رہیں گے۔

تاہم، دفاعی امور کے تحزیہ کار اور فوج کے سابق امحد شعیب کا کہنا ہے کہ، "میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحفظات بے جا تھے۔ ان کو تعاون کرنا چاہیئے تھا۔ بحر حال وہ کسی نا کسی وقت جب اس کے دائرہ کار کی تحریری طور پر وضاحت ہو جائے گی اور سب ملکوں کے پاس اس کے قوائد و ضوابط مل جائیں تو پھر ایران بھی مطمئن ہو جائے گا۔"

حسن عسکری نے کہا ہے کہ یہ تحفظات اسی صورت میں دور ہوں گے جب مشرق وسطیٰ کے بعض عرب ملکوں اور ایران کے درمیان اعتماد بحال ہوگا۔

بقول اُن کے، "بالکل صحیح ہے۔ جب تک سعودی عرب اور ایران میں اعتماد نہیں پیدا ہوتا اس وقت تک جب ایران کوئی کام کرتا ہے تو سعودی عرب اور دیگر قدامت پسند عرب ممالک گھبرا جاتے ہیں اور جب سعودی عرب انسداد دہشت گردی کی فورس بناتا ہے، چاہیے کچھ کرتا ہے، تو ایران میں اس کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ کے دونوں بڑے ملکوں کی پاور پالیٹکس ہے وہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھیں گے۔"

مشرقی وسطیٰ سمیت دنیا کے کئی مسلمان ملکوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے، اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام اسلامی ملکوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ضروری ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG