رسائی کے لنکس

منی اسکرٹ تنازع، سعودی نوجوان سوشل میڈیا پر فعال ہو گئے


Saudi woman, identified as Model Khulood

انتہائی قدامت پرست بادشاہت میں قانونی طور پر عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو ڈھانپ کر رکھیں۔ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے اور وہ مرد سرپرست کے بغیر کہیں آ جا نہیں سکتیں۔ زیادہ تر قانونی کارروائیوں میں انہیں مرد سرپرست کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔

ایک سعودی خاتون کی منی سکرٹ میں ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے پر پولیس کے ہاتھوں اس کی گرفتاری کے بعد بہت سے سعودی نوجوان، خاتون کے حق میں سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گئے ہیں۔

ٹویٹ کرنے والے کئی سعودیوں نے پچھلے مہینے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی اشرافیہ نے خاتون اول ملائنا اور ان کی بیٹی ایوانکا کے لباس کی بہت تعریف کی تھی، حالانکہ وہ برقع نہیں تھا بلکہ جدید وضع قطع کا مغربی لباس تھا۔

سعودی خاتون جس کی شناخت ماڈل خلود کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، ایک ویڈیو کلپ میں دکھائی دی تھی جس میں وہ منی سکرٹ پہنے مٹی اور گارے سے بنی ایک بستی میں سے گذر رہی تھی۔ اس نے چھوٹی سی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس سے اس کے جسم کا کچھ حصہ جھلک رہا تھا۔

سعودی پولیس نے ماڈل خلود کی گرفتاری سے متعلق فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس نے یہ تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے ایک مرد سرپرست کے ساتھ ایک تاریخی مقام دیکھنے گئی تھی۔ لیکن ماڈل کا یہ کہنا ہے کہ ویڈیو اس نے پوسٹ نہیں کی۔

خبروں کی ایک ویب سائٹ sabq.org میں بتایا گیا ہے کہ ریاض کے پراسیکیوٹرز نے کہا ہے کہ ویڈیو کی اشاعت کے بعد پولیس کو قانون نے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

انتہائی قدامت پرست بادشاہت میں قانونی طور پر عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو ڈھانپ کر رکھیں۔ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے اور وہ مرد سرپرست کے بغیر کہیں آ جا نہیں سکتیں۔ زیادہ تر قانونی کارروائیوں میں انہیں مرد سرپرست کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔

لیکن خلود کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد بہت سے سعودی اس کی حمایت میں سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے۔

فاطمہ العیسیٰ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اگر وہ کوئی غیر ملکی خاتون ہوتی تو سعودی اس کے حسن اور آنکھوں کی کشش کے گن گاتے۔ لیکن سعودی عورت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ اسے گرفتار کر لو۔

ایک ایسے ملک میں جہاں بحث مباحثہ غیر قانونی ہے اور جہاں اکثر واقعات میں عورتوں اور مردوں کا ایک ساتھ اکھٹے ہونا قابل گرفت جرم ہے، نوجوان سعودیوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کا واحد ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔

پچھلے مہینے ایک امیر سعودی بزنس مین حسن الجمیل کی تصویر شائع ہوئی تھی جس میں وہ ایک تالاب میں ایک امریکی آرٹسٹ ریحانہ کا بوسہ لے رہے تھے۔ ایک سعودی خاتون نوراسلیمان نے اس تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ آخر اس کے خلاف مقدمہ چلانے کا کیوں نہیں کہا گیا۔

شجان القاہتانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ سعودی عورت کے معاملے میں سب صوفی اور ولی بن گئے ہیں لیکن جب ریحانہ ، حسن الجمیل کی باہوں میں لیٹی ہوئی تھی تو کسی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا تھا۔

کچھ لوگوں کی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ریاست کی اپنی اقدار اور روايات ہیں اور اپنے طور طریقے ہیں۔ فرانس میں عورتوں کے لیے برقع پہننا جرم ہے اور اس پر انہیں سزا ملتی ہے جب کہ سعودی عرب میں برقع نہ پہننے پر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔

اے ایف پی کے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی پولیس نے ماڈل خلود کے خلاف مقدمہ واپس لے کر اسے رہا کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG