رسائی کے لنکس

logo-print

فرار ہو کر ہانگ کانگ پہنچنے والی سعودی بہنوں کا مستقبل غیر واضح


اپنی فیملی سے بھاگ کر ہانگ پہنچنے والی سعودی بہنیں، 18 سالہ راون(زرد شرٹ میں) اور 20 سالہ ریم۔ 22 فروری 2019

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں، جنہوں نے مسیحیت قبول کرنے کے بعد بھاگ کر ہانگ کانگ میں پناہ لی تھی، اب وطن واپس جانے سے خوف زدہ ہیں۔ اب انہیں یہ پریشانی بھی ہے کہ ہانگ کانب میں ان کے پناہ کی مدت جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

میڈیا میں شناخت چھپانے کی غرض سے اپنے فرضی ناموں، راون اور ریم، سے پہچان رکھنے والی یہ دونوں بہنیں پانچ ماہ قبل اس وقت بھاگ کر ہانگ کانگ چلی گئی تھیں جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے سری لنکا میں آئی ہوئی تھیں۔

ان دونوں بہنوں کی عمریں 18 اور 20 سال ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتی ہیں انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر کے مسیحت اختیار کر لی ہے اور اب اگر وہ اب واپس سعودی عرب گئیں تو انہیں ارتداد کے جرم میں موت کی سزا مل سکتی ہے۔

چونکہ ہانگ کانگ نے ابھی تک 1951 کے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے کنوینشن پر دستخط نہیں کئے، اس لئے ان دونوں بہنوں نے کسی تیسرے ملک میں پناہ کی درخواست دی ہے۔

ان کے وکیل مائیکل ونڈلر کے مطابق ان دونوں بہنوں کے پاسپورٹ سعودی عرب بے منسوخ کر دیے ہیں اور اب ہانگ کانگ میں ان دونوں بہنیوں کی حیثیت غیر واضح ہے۔

ونڈلر کہتے ہیں کہ ’’ہانگ کانگ کے حکام نے یہ رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ جب تک ان دونوں بہنوں کا کسی تیسرے ملک میں پناہ کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس مدت کے دوران یہ دونوں یہاں قیام کر سکتی ہیں۔

وکیل نے اس توقع کا اظہار کیا انہیں قیام میں توسیع مل جائے گی۔

ہانگ کانگ کے امیگریشن آفس نے وائس آف امریکہ کو یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے معذرت کر لی کہ ہم انفرادی کیسز پر تبصرہ نہیں کرتے۔

ہانک کانگ میں سعودی قونصلیٹ نے بھی اس پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

وکیل وڈلر کے مطابق دونوں بہنیں ہانگ کانگ میں خوف کی زندگی گزار رہی ہیں اور وہ سعودی حکام کی نظروں سے پوشیدہ رہنے کے لیے اب تک 13 مرتبہ اپنی رہائش تبدیل کر چکی ہیں۔

دونوں بہنیں #HKSaudiSisters کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئیٹر پر اپنے کیس کے متعلق بات کرتی ہیں اور اپنا پیغام پھیلاتی ہیں۔

راون اور ریم ستمبر میں ہانگ کانگ آئیں تھیں اور جب انہوں نے وہاں سے آسٹریلیا جانے کی کوشش کی تو سعودی حکام نے انہیں روکتے ہوئے سعودی واپس جانے پر زور دیا۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان بہنوں کو کسی تیسرے ملک میں بھیجنا ہانگ کانگ کی ذمہ دار ہے۔

ایمنسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریم اور راون کو سعودی عرب ہرگز نہیں بھیجنا چاہئے۔ وہاں ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ، جسٹس سینٹر کے مطابق ہانھ کانگ میں اس وقت پناہ حاصل کرنے کے لیے 10 ہزار سے زیادہ افراد موجود ہیں۔

کئی صورتوں میں ان درخواستوں کا فیصلہ ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

سعودی بہنوں کا معاملہ اس سال کا دوسرا بڑا ہائی پروفائل کیس ہے جس میں سعودی عورتیں اپنے خاندان سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہی ہیں۔

اپنی فیملی سے فرار ہونے والی 18 سالہ سعودی لڑکی رائف القنون، کینیڈا میں پناہ ملنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہی ہے۔
اپنی فیملی سے فرار ہونے والی 18 سالہ سعودی لڑکی رائف القنون، کینیڈا میں پناہ ملنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہی ہے۔

اس سال اٹھارہ برس کی رائف محمد القنون کو تھائی لینڈ میں آسٹریلیا جاتے ہوئے روک لیا گیا تھا۔

القنون اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کویت گئی تھی جہاں سے وہ بھاگ کر 5 جنوری کو تھائی لینڈ پہنچ گئی۔ جب تھائی لینڈ حکام نے انہیں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو اس نے خود کو ہوٹل کے کمرے میں بند کر کے اپنی تصاویر ٹوئیٹر پر شئیر کی دیں، جس سے اسے فوری طور پر عالمی توجہ مل گئی۔ سوشل میڈیا پر اس کے حق میں آوازیں اٹھنے کے بعد تھائی لینڈ حکام نے اسے سعودیہ بھیجنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اسی دوران کینیڈا نے رائف کو پناہ دے دی اور اب وہ کینیڈا میں رہ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG