رسائی کے لنکس

کیا گاڑی چلانے کی اجازت سعودی خواتین میں احساس محرومی کو ختم کر سکے گی؟


سعودی فرماں روا ں شاہ سلمان نے حال ہی میں سعودی خواتین کو محرم کی اجازت کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور گاڑی چلانے کی قانونی طور پر اجازت دے دی ہے جس سے سعودی خواتین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس سلسلے میں شاہی فیصلہ منگل کے روز ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا جو اگلے برس 30 جون سے نافذ العمل ہو گا۔ یہ اُسی وقت درست طور پر معلوم ہو سکے گا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کس انداز میں ہوتا ہے۔

عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی کی ڈین ڈاکٹر الہام العتیق
عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی کی ڈین ڈاکٹر الہام العتیق

سعودی عرب میں عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی کی ڈین ڈاکٹر الہام العتیق نے وائس آف امریکہ کی دیوا سروس سے بات کرتے ہوئے سعودی حکومت کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اقدام یقیناً خوش آئیند ہے اور یہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ اس سے خواتین اور خاص طور ملازمت پیشہ خواتین کیلئے سفر کی آسانی ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں ثقافتی مسائل کی وجہ سے اس اقدام پر عملدرآمد میں بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسے جاری رکھنا ہو گا۔ ڈاکٹر الہام نے بتایا کہ سعودی عرب میں اب خواتین مجلس شوریٰ اور ملکی سیاست میں بھی پہلے سے زیادہ فعال ہیں۔

تاہم نیو یارک میں قائم ہیومن رائیٹس واچ میں خواتین کے حقوق کے شعبے کی سینئر محقق نشا واریا نے ایک خصوصی گفتگو میں ہمیں بتایا کہ گاڑی چلانے کی اجازت دینا ایک بہت چھوٹا قدم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں خواتین بدستور بدترین پابندیوں کا شکار ہیں۔ وہاں ایک عورت کی زندگی پیدائش سے لیکر موت تک محرم یعنی قریبی رشتہ دار مرد کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ یہ محرم والد، شوہر، بھائی ، بیٹا، چچا یا کوئی بھی قریبی رشتہ دار مرد ہو سکتا ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں سعودی خواتین کو اس مرد محرم کی اجازت درکار ہوتی ہے جس میں تعلیم ، صحت اور سفر جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال میں خواتین کیلئے ایک بھرپور اور آزاد زندگی گزارنا ناممکن ہے۔

نشا واریہ کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں خواتین کو حقوق دینے کے سلسلے میں یقیناً کچھ پیش رفت دکھائی دیتی ہے جو خود خواتین سماجی کارکنوں کی جرات اور جدوجہد کی مظہر ہے۔ تاہم گاڑی چلانے پر پاندی ختم کرنے جیسے اقدامات مجموعی طور پر سعودی عرب میں خواتین کی حالت کو سدھارنے کی جانب محض ایک چھوٹا سا قدم ہے۔

نشا واریہ کہا کہنا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سعودی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ خواتین کو حقوق سے محروم رکھنا ریاستی پالیسی نہیں ہے۔ تاہم نئے قوانین اور اقدامات پر عملدرآمد اور مخصوص ثقافتی پہلو کے حوالے سے بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ یوں صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہو گی۔ نشا کہتی ہیں کہ اس سلسلے میں محض مرحلہ وار چھوٹے چھوٹے اقدامات بے سود ہوں گے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ اس بارے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں تاکہ خواتین کو وہ تمام حقوق فراہم کئے جاسکیں جو دنیا کے دیگر ممالک میں خواتین کو حاصل ہیں تاکہ وہ سعودی معاشرے اور ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔

سعودی عرب اور امریکہ میں قریبی تعلقات قائم ہیں اور صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آنے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں اُن کا غیر معمولی استقبال کیا گیا۔ نشا واریہ کہتی ہیں کہ امریکہ کو ان قریبی تعلقات اور اثرورسوخ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سعودی حکومت پر مسلسل زور دینا چاہئیے کہ وہ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں جامع اقدامات اختیار کرے۔ ایسے حقوق کیلئے طویل عرصے تک انتظار کرنا انتہائی غیر مناسب ہو گا۔

اُدھر صنفی معاملات کے حوالے سے کی جانے والی تفریق کے بارے میں ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے جاری کردہ 2016 کی رپورٹ میں سعودی عرب 144 ممالک کی فہرست میں 141 پر دکھایا گیا ہے۔ شام، پاکستان اور یمن ایسے ممالک ہیں جو اس رپورٹ میں آخری پوزیشنوں پر دکھائے گئے ہیں۔

اگرچہ ماضی کے مقابلے میں خواتین کو کچھ حقوق حاصل ہوئے ہیں لیکن وہ بہت سے بنیادی حقوق سے اب بھی محروم ہیں۔ مثلاً خواتین اپنے محرم کی باضابطہ اجازت کے بغیر شادی یا طلاق کا فیصلہ نہیں کر سکتیں۔ وہ نہ تو خود سے بینک اکاؤنٹ کھول سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی ملازمت حاصل کر سکتی ہیں۔ اُنہیں اپنی سرجری کرانے کیلئے بھی محرم کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

2013 میں حکام نے دکانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ وہاں کام کرنے والے مرد اور عورتوں کے درمیان دیوار تعمیر کرائیں تاکہ مرد اور عورتیں ایک جگہ پر اکھٹے کام نہ کر سکیں۔ گھر سے باہر خواتین کیلئے سیاہ رنگ کا ابایا پہننا لازمی ہے ۔

خواتین کو محرم کے بغیر کوئی کاروبار کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ کاروبار شروع کرنے کیلئے کسی خاتون کو کم از کم دو مردوں سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ متعلقہ خاتون کا کردار اچھا ہے۔ اس کے بعد ہی اسے کاروبار کرنے کا لائسنس یا قرضہ مل سکتا ہے۔ خواتین محرم کی اجازت کے بغیر قومی شناختی کارڈ بھی حاصل نہیں کر سکتیں۔

عدالتوں میں عورت کی گواہی کو ایک بچے کی گواہی قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یوں خواتین کو دئے گئے کچھ حقوق محض آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG