رسائی کے لنکس

logo-print

'ٹوئٹر نے مجھے زیادہ مضبوط بنایا'


سوارا بھاسکر

سوارا بھاسکر کو فلم انڈسٹری میں آئے آٹھ سال ہوئے ہیں اور اب وہ ان اداکاروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں جو یو ٹیوب، نیٹ فلکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز  کے لیے بنائی جانے والی فلوں اور ڈرامہ سیریز میں بڑھ  چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

’میں پہلے ہی ایک موٹی چمڑی رکھنے والی عورت ہوں اور سماج کے پیدا کردہ ڈر اور خوف کو اپنے اندر سے نکال کر ایکٹنگ کے میدان میں آئی ہوں مگر مجھے اور میرے اعصاب کو ٹوئٹر نے زیادہ مضبوط بنا دیا ہے‘

یہ الفاظ سوارا بھاسکر کے ہیں۔ سوارا ہندی فلم انڈسٹری کا اب ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں اور فلموں میں اپنے منفرد کرداروں کی ساتھ ساتھ مختلف سماجی موضوعات پر کھلی تنقید کرنے اور اپنی صاف گوئی کے لیے بھی پہچانی جاتی ہیں۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی ہندی فلم ویرے دی ویڈنگ میں انہوں نے ایک ماڈرن امیر شادی شدہ لڑکی کا کردار نبھایا جو اپنے حقوق سے واقف ہے اور اپنی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی کچھ کرتی ہے جو اسے پسند ہے۔

وائس آف امریکہ کے فیس بک لائیو انٹرویو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ مذاق میں کہتی ہوں کہ غریبی بھوک مری بیماری لاچاری بیروزگاری ایسے والے کردار کیے ہیں تو ویرے دے ویڈنگ میں میں ایک امیر لڑکی کا رول کر رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی میں کر بھی پاؤں گی کہ نہیں سو میں نے دراصل وہ رول مانگا تھا پروڈیوسر ریا کپور سے۔ میں نے اسے راضی کیا تھا اور اس کی شرط تھی وزن کم کرنا پڑے گا تو میں نے کہا میں کر لوں گی جو بھی کرنا ہے‘۔

سوارا بھاسکر وائس آف امریکہ کے ساتھ فیس بک لائیو میں۔
سوارا بھاسکر وائس آف امریکہ کے ساتھ فیس بک لائیو میں۔

​سوارا کے مطابق انہیں اس کردار کے لیے ہر عمر کی خواتین سے بہت پذیرائی ملی مگر دوسری طرف ٹوئٹر پر لوگوں نے انہیں بہت تنگ کیا۔ ان پر شدید تنقید کی گئی اور انہیں کئی بار اس تنقید کا جواب بھی دینا پڑا۔

سوارا کہتی ہیں ’ مجھے پتہ تھا کہ تھا وہ سین اور مجھے پتہ تھا کہ مجھے کرنا پڑے گا لیکن میرے نزدیک یہ کردار بہت چیلنجنگ تھا کہ پہلی بار ہندی سینما میں آپ ایسا کوئی ایک سین دیکھیں گے اتنا واضح طریقے سے جو عورتوں کے ارمانوں کی بات کر رہا تھا کیونکہ اس قسم کی باتوں پر، خصوصاً جو باتیں خواتین کی جسمانی خواہشات سے جڑی ہوتی ہیں، ان باتوں پر نہ صرف بھارت میں، بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں ایک خاموشی ہوتی ہے۔ ہمیشہ ہم جاننا نہیں چاہتے، ہم اس کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ یہ بہت انٹرسٹنگ ہو گا اگر کمرشل سپیس میں ہم ایسی ڈسکشن شروع کریں اور ظاہر ہے کہ مجھے توقع تھی کہ میری ٹرولنگ ہو گی یہ تو اب ایک زندگی کی اصلیت ہے‘۔

بھارت میں بننے والی فلموں کی کہانیوں نے لگ بھگ تین سال پہلے ایک نیا موڑ اس وقت لیا جب ٹوائلٹ، پیڈ مین، دم لگا کے ہئی شا وغیرہ جیسی فلمیں سامنے آئیں اور کامیاب رہیں۔

سوارا کہتی ہیں انڈسٹری میں اب موضوعات اور کہانیوں کا ماحول بہت کھل گیا ہے’ میرا خیال ہے کہ انڈیا میں اچھا کانٹینٹ کامیاب ہو رہا ہے۔ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں روہت شیٹی کی بنائی کمرشل فلمیں بھی ہٹ ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف نیوٹن اور ٹوائلٹ یا پیڈ مین جیسی فلمیں بھی کامیاب ہیں اور اب ڈیجیٹل سپیس میں بھی جگہ بن رہی ہے۔ بہت سارے ایپس آ گئے ہیں۔ امیزون اور نیٹفلکس جیسی کمپنیز نے بھارت میں انویسٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور اس ڈیجیٹل سپیس میں اور زیادہ مختلف قسم کا کانٹینٹ آ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نئی کہانیوں کے لیے نئے کرداروں کے لیے بالی ووڈ میں یہ بہترین وقت ہے۔

سوارا بھاسکر کو فلم انڈسٹری میں آئے آٹھ سال ہوئے ہیں اور اب وہ ان اداکاروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں جو یو ٹیوب، نیٹ فلکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے بنائی جانے والی فلوں اور ڈرامہ سیریز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔سوارا بھاسکر کی اس قسم کی تین ویب سیریز جلد ہی منظر عام پر آئیں گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سینما کا متبادل ہو سکتے ہیں سوارا کہتی ہیں، نہیں ۔۔۔ کیونکہ فلم کو فیملی اور دوستوں کے ساتھ سینما میں جا کر دیکھنا ایک سماجی تجربہ ہے۔ اس کا متبادل آپ کبھی نہیں تلاش کر سکتے۔ لیکن دوسری طرف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک ذاتی میڈیم ہے کیونکہ آپ اس کے ذریعے فلمیں اپنے فون پر دیکھ رہے ہیں یا لیپ ٹاپ پر دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت جب آپ اکیلے ہیں یا جب آپ بور ہو رہے ہیں یا دفتر میں بیٹھے ہیں اور کچھ کرنے کو نہیں ہے اور یہ الگ الگ انسانی تجربات ہیں۔ میں نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ جانا ہے کہ سب کچھ ممکن ہے۔

سوارا مزید کہتی ہیں ’ یہ ایک نیا پلیٹ فارم ہے جہاں پہ کانٹینٹ دستیاب ہے اس کی خاص بات یہ ہے انڈیا کے لیے کہ یہ سنسرڈ نہیں ہے۔ اس پر سنسر بورڈ کا کوئی حکم یا قینچی نہیں چلتی۔ اس پر ریٹنگز کا پریشر نہیں ہے۔ اس پر باکس آفس کا پریشر نہیں ہے۔ سو یہ اس اعتبار سے کافی آزاد ہے کیونکہ فلموں پہ بھارت میں بہت دباؤ اور ریسٹرکشن ہوتی ہیں‘۔

بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں کثیر المذاہب لوگوں کے ساتھ ساتھ ثقافتوں اور روایات میں تنوع پایا جاتا ہے مگر حال ہی میں ملک میں دو فلموں پدماوت اور کیدار ناتھ پر ملک میں بسنے والے راجھستانیوں اور دائیں بازو کے سخت گیر ہندووں کی جانب سے احتجاج کے بعد یہ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ مگر کئی ضلعوں اور ریاستوں میں پبلک سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ان پر پابندی بھی عائد کر دی۔ سوارا کہتی ہیں کہ پابندیوں کا یہ کلچر کسی بھی جمہوریت کے لیے کبھی اچھا نہیں ہوتا اور وہ اس کی مخالفت کرتی ہیں۔

سوارا بھاسکر اپنی صاف گوئی کے لیے مشہور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بات کی جائے تو پھر اس پر قائم بھی رہا جائے، مگر ساتھ ہی وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اب انہوں نے باتوں میں محتاط ہونا سیکھ لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے۔ ’مجھے بہت لوگ کہتے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو زیادہ مت بولا کرو۔ ایکٹنگ کرو بس ۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ایکٹرز کا دماغ نہیں ہوتا اور ہمیں خیال نہیں آتے اور ہم سانس نہیں لیتے۔ اور چونکہ میں جتنی تیزی سے سوچتی ہوں اتنی ہی تیزی سے بات کرتی ہوں تو ایسی کچھ چیزیں نکل جاتی ہیں منہ سے، مگر میں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں میں کیسے محتاط رہوں اور نرم رویہ رکھوں۔ ‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG