رسائی کے لنکس

logo-print

'کوئی نقلی خواجہ سرا کیوں بنے گا؟'


فائل فوٹو

بندیا رانا کا استدلال ہے کہ خواجہ سرا اگر مرد اور عورتوں کی طرح کوئی آپریشن کرا کر جسم میں اپنی منشا سے طبی تبدیلیاں کراتے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ سراؤں کو قومی شناختی کارڈ کے اجرا کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس برادری کے ساتھ ناروا سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔

معاشرے میں امتیازی سلوک کی شکار اس برادری کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات درپیش تھیں جن کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تھا۔

پیر کو لاہور رجسٹری میں سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی خود نگرانی کرے گی۔

سپریم کورٹ کی طرف سے کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت پر اس برادری کے سرگرم کارکنان نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

'جنڈر انٹر ایکٹِو الائنس' کی صدر بندیا رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سپریم کورٹ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام سے مطمئن ہیں۔

ندیم کشش دیگر خواجہ سراؤں کے ساتھ (فائل فوٹو)
ندیم کشش دیگر خواجہ سراؤں کے ساتھ (فائل فوٹو)

لیکن 'شی میل ایسوسی ایشن فار فنڈامینٹل رائٹس' کے صدر ندیم کشش اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہلے تو اس بات کا تعین کیا جانا ضروری ہے کہ کون پیدائشی اور اصل خواجہ سرا ہے اور کون کسی طبی مرحلے سے گزر کر اس برادری میں شامل ہوا ہے۔

"اس عمل پر جانے سے پہلے ایک کمیٹی بنائی جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ خواجہ سرا کون ہے؟ اس کی تعریف بیان کرے کہ جو اس زمرے کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ میڈیکل ٹیسٹ ہو لازمی۔ اس کے ہارمونز کا ٹیسٹ ہو۔ اگر اس میں زنانہ ہارمونز زیادہ ہیں تو وہ خواجہ سرا ہے۔"

تاہم بندیا رانا اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں اور ان کا استدلال ہے کہ خواجہ سرا اگر مرد اور عورتوں کی طرح کوئی آپریشن کرا کر جسم میں اپنی منشا سے طبی تبدیلیاں کراتے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

"نقلی خواجہ سرا تو تب بنیں گے ناں کہ یہاں ایوارڈ مل رہے ہوں۔ ہمارے لوگ تو وہی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ جو پڑھے لکھے ہیں، انھیں چینلز والوں نے کام دے دیا ہے تو کوئی ماڈل بن گئی ہے۔ باقی تو وہی کر رہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو کام نہیں ملتا۔ وہ جسم بیچتے ہیں۔ آئے دن سڑکوں پر قتل ہوتے ہیں۔"

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے قانون بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود انھیں ناروا معاشرتی سلوک کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھی دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔

پیر کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کے یہ ریمارکس بھی سامنے آئے کہ شناختی کارڈ کے حامل خواجہ سراؤں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہیے اور سپریم کورٹ اس برادری کو تمام قانونی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG