رسائی کے لنکس

logo-print

مختاراں مائی کیس، ملزمان کی بریت کے خلاف نظرِ ثانی اپیل مسترد


مختاراں مائی (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے اجتماعی زیادتی کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی مختاراں مائی کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو مختاراں مائی زیادتی کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف نظرِ ثانی اپیل کی سماعت کی۔

بینچ کے روبرو مختاراں مائی کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جرم ایک دور دراز علاقے میں ہو۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ مختاراں مائی پر زخم کا کوئی نشان نہیں۔ میں ریکارڈ سے بتاؤں گا کہ جسم پر زخم کے نشان تھے۔

اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نظرِ ثانی میں اپیل کے گراؤنڈ (دلائل) نہیں لیے جا سکتے۔ نظرِ ثانی میں صرف فیصلے کی غلطی کا بتایا جاتا ہے۔ کیس کو مختصر کریں ورنہ یہ 10 سال یونہی پڑا رہے گا۔ کیس میں معروضات لکھوا دیں۔ کسی دوسرے کیس میں ان نکات کا جائزہ لیں گے۔

عدالتِ عظمیٰ نے مختصر سماعت کے بعد کیس کو نمٹا دیا اور نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کر دی۔

سال 2002 میں پنجاب کے ایک گاؤں میرانوالہ میں پنچایت کے حکم پر مبینہ طور پر مختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس معاملے پر اس وقت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

لیکن لاہور ہائی کورٹ نے عدم ثبوت کی بنا پر پانچ ملزمان کو رہا کر دیا تھا اور ایک کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

بعد ازاں مختاراں مائی نے ملزمان کی بریت کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی جو اب مسترد ہو گئی ہے۔

وائس آف امریکہ نے اپیل مسترد ہونے پر ردِ عمل جاننے کے لیے مختاراں مائی کے ساتھ رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG