رسائی کے لنکس

وکلا ونگ کی تقریب میں شرکت پر سپریم کورٹ کا وزیرِ اعظم کو نوٹس


وزیر اعظم عمران خان (فائل فوٹو)
وزیر اعظم عمران خان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اپنی پارٹی کے وکلا ونگ (انصاف لائرز فورم) کی تقریب میں شرکت کرنے اور مبینہ طور پر وسائل کے غلط استعمال پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا ہے کہ عمران خان پورے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں، لہذٰا بادی النظر میں ایک خاص گروپ کی تقریب میں شرکت کر کے وزیرِ اعظم نے یہ تاثر دیا کہ وہ اس کے حمایتی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس معاملے پر الگ بینچ تشکیل دینے کے لیے یہ معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔

یہ معاملہ پیر کو اس وقت زیرِ بحث آیا جب سپریم کورٹ کا دو رُکنی بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پنجاب میں محکمہ ریونیو سے متعلق ایک کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

جسٹس قاضی فائز نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ ایڈوکیٹ جنرل کنونشن سینٹر میں ہونے والے سیاسی اجتماع میں بیٹھے رہے لیکن یہاں پیش نہیں ہوئے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ وزیرِاعظم نے پورے ملک سے ووٹ لیے، وہ کسی جماعت کے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں۔ انہوں نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں وکلا کی ایک تقریب میں شرکت کر کے کسی ایک گروپ کی حمایت کی۔

فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا وزیرِ اعظم کا معیار اتنا کم ہے کہ خود کو کسی ایک جماعت کے ساتھ وابستہ کریں۔ وہ ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیوں کر رہے ہیں؟

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے نو اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں انصاف لائرز فورم کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

جسٹس فائز نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کسی سیاسی جماعت کا نہیں پورے صوبے کا ہوتا ہے۔ بادی النظر میں ایڈووکیٹ جنرل صوبے کے مفاد کے دفاع کے اہل نہیں۔ وہ ایسی سرگرمیوں میں شریک ہوئے جن کا ان سے تعلق نہیں۔

ایڈیشنل سیکرٹری سپریم کورٹ بار رفاقت شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وکلا کے مخصوص گروپ کی تقریب میں احمد اویس شریک ہوئے۔ وزیرِ اعظم نے تقریب میں شرکت کر کے وکلا گروپ کو سپورٹ کیا۔

جسٹس قاضی فائز کے سوالات؟

جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعت کی تقریب کے لیے سرکاری عمارت کنونشن سینٹر کا استعمال کیسے ہوا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ بتائے کہ کیا کنونشن سینٹر میں فیس ادا کی گئی؟ عدالت کی رہنمائی کی جائے کہ کیا وزیرِ اعظم کا حلف اور قانون کی متعلقہ دفعات اُنہیں ایسے اقدام کی اجازت دیتی ہیں؟ کیا وزیرِ اعظم سرکاری خرچ پر ایسی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں؟ کیا کوئی جج بھی کسی سیاسی جماعت کے پینل کا فنکشن جوائن کر سکتا ہے؟

جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیے کہ آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ بظاہر وزیرِ اعظم نے تقریب میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی۔ وزیرِ اعظم کسی خاص گروپ کے ساتھ الائن نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم ملک کے ہر فرد کا وزیراعظم ہے، ان کا رتبہ بہت بڑا ہے۔ تقریب کسی نجی ہوٹل میں ہوتی تو اور بات تھی۔ تقریب کے لیے ٹیکس پیئرز کے وینیو کا استعمال کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قاسم چوہان سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا وزیراعظم نے بطور وزیرِاعظم پروگرام میں شرکت کی؟ کیا وزیرِاعظم اور ایڈوکیٹ جنرل ایسا کرنے کے مجاز تھے؟ کیا کوئی آئینی عہدے دار ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کرسکتا ہے؟

کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا ہو سکتا ہے؟ آپ جواب دیں تو شاید آپ کی نوکری چلی جائے لیکن قانون نوکری سے بالاتر ہونا چاہیے۔ قرآن میں ہے کہ گواہی دو چاہے تمہارے والدین کےخلاف ہی کیوں نہ ہو۔

قاسم چوہان نے بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 17 جلسےجلوس کی اجازت دیتا ہے، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب وکلا کی تقریب کی وجہ سے گئے۔ تقریب میں شرکت کی ویڈیو نہیں دیکھی اس لیے وہ رائے نہیں دے سکتے۔ وہ صرف پنجاب حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں وزیراعظم کے بارے میں وہ رائے نہیں دے سکتے۔

عدالت نے سینئر ترین ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر معاونت کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب، انچارج کنونشن سینٹر، اسلام آباد انتظامیہ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، صدر سپریم کورٹ بار سمیت متعلقہ اداروں کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کنونشن سینٹر کی بکنگ کی ادائیگی کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

وزیرِاعظم نے کنونشن سے خطاب میں کیا کہا؟

وزیرِاعظم عمران خان نے نو اکتوبر کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں انصاف لائرز فورم کی تقریب میں شرکت کی تھی جس میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر تنقید کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس دیکھ کر شیریں مزاری آبدیدہ ہوگئی تھیں لیکن وہ سب جھوٹ بول کر ملک سے فرار ہوئے۔

اس تقریب میں وزیرِاعظم نے اپوزیشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جمہوریت ہوں، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام کی طرف سے وزیرِاعظم نواز شریف سے استعفیٰ مانگنے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو نوازشریف کی سب چوریوں کا پتا ہے جب کہ میرے رہن سہن کا بھی آئی ایس آئی کو پتا ہے۔

XS
SM
MD
LG